خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 270
270 خطبہ جمعہ فرمود : 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اور پھر پاکستان اور ہندوستان کی بات نہیں ہے۔قادیان سے اٹھنے والی وہ آواز جس کو اپنے وسائل سے چند کوس تک چند میل تک پہنچنا مشکل نظر آ رہا تھا اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت اور وعدوں کے مطابق تمام دنیا میں پھیل گئی ہے اور نہ صرف آواز پھیل گئی بلکہ دنیا میں وَسِعُ مَكَانَكَ کے نظارے بھی ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ہمیں ہر جگہ نظر آ رہے ہیں۔یہ مسجد جو بیت الفتوح ہے۔یہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔کہاں چھوٹی سی مسجد فضل تھی جس میں زیادہ نمازی جمع ہو جاتے تھے تو مار کی لگانی پڑتی تھی اور اب یہاں سب کھپت ہو جاتی ہے ، سارے اسی میں سموئے جاتے ہیں۔اسی طرح UK میں اور مساجد بن رہی ہیں۔تو یہ سب وَسِعُ مَكَانَكَ کے نظارے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس وقت آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو نوازتے ہوئے وَسِعُ مَكَانَكَ کی پیشگوئی کو ہر جگہ ہمیں پورا ہوتے دکھا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ یہ ہیں کہ زیادہ قوت اور کثرت کے ساتھ پوری فرما رہا ہے۔یہی الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے تھے کہ جوں جوں نیا الہام ہوتا ہے یا دوبارہ اللہ تعالیٰ یہ الہام کرتا ہے تو وہ زیادہ قوت اور کثرت کے ساتھ اس کو پورا بھی فرماتا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دُنیا میں جماعت احمدیہ کی مساجد اور مراکز کی تعداد 14 ہزار 715 ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔جب ہم اپنی کوشش دیکھتے ہیں تو یہ اضافہ ناممکن نظر آتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کیونکہ وَسِعُ مَكَانَكَ کا حکم دیا تو خودہی اس کے سامان بھی پیدا فرما تا چلا جارہا ہے۔کن حالات میں بعض جگہ مساجد اور دوسری تعمیرات ہوئیں۔اس کے چند واقعات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہندوستان کا ہی پہلے ذکر کروں گا۔وہاں بجھن ضلع کانگڑہ میں ایک جگہ ہے۔جب یہ رپورٹ آئی ہے اس سے تھوڑا عرصہ پہلے وہاں جماعت قائم ہوئی ہے۔مسلمانوں کی طرف سے مسجد کی تعمیر کی بہت مخالفت ہوئی کہ جماعت یہاں تعمیر نہیں کرے گی۔بعد میں ہندو بھی ان کے ساتھ مل گئے اور جماعت کے مخالف ہو گئے۔اس علاقے کا پولیس افسر، ایس ڈی ایم کہتے ہیں وہ ہندو تھا لیکن شریف النفس تھا۔اس نے احمدیوں کو کہا کہ دن کو کام نہ کریں۔رات کو کام کریں اور میں اپنے آدمی بھجواؤں گا۔آپ اپنے آدمی ساتھ لگائیں اور مسجد بنالیں۔چنانچہ اس طرح راتوں کو کام کر کے مسجد تعمیر ہوئی اور ایک ہال نما کمرہ بنا لیا گیا۔بعد میں ایک رات میں مسجد کے مینار بھی بنالئے گئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک غیر مسلم کی مدد سے مسجد کی تعمیر کا کام مکمل کروایا اور مسلمانوں کی اس تعمیر میں روک ڈالنے کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔سو اس طرح بھی خدا تعالیٰ اپنی تائید دکھاتا رہا ہے۔پھر ضلع فتح آبادصو بہ ہریانہ میں مسجد تعمیر ہوئی۔یہاں بھی نئی جماعت قائم ہوئی ہے۔جب مقامی جماعت نے مسجد کی تعمیر کی کوشش کی تو یہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے مسجد کی تعمیر کی سخت مخالفت کی اور ہندوؤں نے بھی ساتھ دیا۔اس علاقہ میں خدام نے جلسہ کیا۔بلڈ ڈونیشن (Blood Donation) کیمپ لگایا۔ہندوؤں پر اس کا بہت اثر ہوا اور انہوں نے مخالفت چھوڑ دی اور جماعت کے حق میں کھڑے ہو گئے۔لیکن مسلمانوں نے مخالفت نہیں چھوڑی اور