خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 202
202 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 چیزیں انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرنے والی ہونی چاہئیں کہ جس خدا نے انسان پر اس قدر شفقت فرماتے ہوئے بے شمار چیزیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں اور پھر انہیں انسان کے زیر بھی کیا ہے تا کہ وہ ان سے فائدہ حاصل کر سکے تو پھر اُس خدا میں یہ طاقت بھی ہے کہ اپنے بندوں کے فائدہ کے لئے آئندہ بھی مزید ایسی چیزیں پیدا کر سکے جو اس کے لئے نفع رساں ہوں یا موجود چیزوں کے چھپے ہوئے خواص ظاہر کر کے انہیں انسانوں کے لئے فائدہ مند بنا دے۔پس جب اس قدر مہربانی ہے انسانوں پر اس رب العالمین کی تو کس قدر انسان کو اس کا شکر گزار ہونا چاہئے اور اس کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور شرک سے اپنے آپ کو کلیۂ پاک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر یہ ذکر فرمایا کہ تمہارے فائدے اور نفع کے لئے میں نے بے شمار چیزیں پیدا کی ہیں۔جب بھی ان چیزوں سے فیض اٹھانے کی کوشش کرو تو ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ ان چیزوں کے پیدا کرنے والی صرف میری ذات ہے اور نہ صرف پیدا کرنے والی ہے بلکہ دنیا کی ہر چیز کا قائم رکھنا اور اس کا کنٹرول بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اور جب یہ سب کچھ اس بالا ہستی کے ہاتھ میں ہے جو رب العالمین ہے ، جو رحمان ہے، اپنی رحمانیت سے لوگوں کو فیضیاب کرتا ہے اور پھر ربوبیت کے تحت جو محنت کرنے والے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر اس کی پیدائش سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تو ایسے خدا کے علاوہ کسی اور خدا کی طرف دیکھنا انتہائی بے وقوفی ہو گی۔پس ایسا خدا ہی عبادت کے لائق خدا ہے جو رب بھی ہے ، رحمان بھی ہے ، رحیم بھی ہے اور بے شمار دوسری صفات کا مالک ہے۔قرآن میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَابِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلَّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لايتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرة: 165)۔کہ یقینا آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے نے اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں اُس سامان کے ساتھ چلتی ہیں جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اس پانی میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا ہے پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے چلنے پھرنے والے جاندار پھیلائے اور اسی طرح ہواؤں کا رخ بدل بدل کر چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں عقل کرنے والی قوم کے لئے نشانات ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنے چند احسانوں کا ذکر کر کے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں عقل ہو تو کبھی ادھر ادھر نہ بھٹکتے پھرو بلکہ خدا تعالیٰ کی ہر پیدائش جس سے تم فائدہ حاصل کر رہے ہو، خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والا بنانے والی ہو۔