خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 203
203 خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اس آیت سے پہلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالهُكُمُ اِلهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ | الرَّحِيمُ (البقرة : 164)۔پس تمہارا معبود اپنی ذات میں ایک معبود ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔بے انتہاء رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔وہ بن مانگے رحم کرتے ہوئے اپنی نعمتیں عطا کرتا ہے اور جب انسان شکر گزار ہوتے ہوئے اُن نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔تو پھر ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بنتا چلا جاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے بعض جلووں کا اظہار کیا ہے۔جو پہلی آیت میں نے پڑھی تھی۔فرمایا کہ آسمان اور زمین کی پیدائش میں جو آسمان اور زمین کی جو پیدائش ہے وہ بھی میرے انعاموں میں سے ایک انعام ہے۔اور یہ یونہی بے فائدہ ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے آسمان اور زمین بنا دیا بلکہ ہماری زمین اور اس سے متعلقہ سیارے چاند ، سورج وغیرہ اور ان میں موجود گیسز جو ہیں فضا میں ، ہوا ہے یہ سب کچھ جو ہیں انسان کے فائدہ کے لئے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں میں نے بتایا تھا زمین پر بھی بے شمار عالم موجود ہیں۔کئی قسم کی مخلوق ہے یعنی ان تمام چیزوں کی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔یہ سب چیزیں انسان کے فائدہ کے لئے ہیں۔پھر رات اور دن کا ادلنا بدلنا ہے۔چوبیس گھنٹے میں رات اور دن کے مختلف اوقات ہیں۔انسانی زندگی کی یکسانیت کو دُور کرنے کے لئے بھی ضروری ہیں۔اور آرام اور کام کے مواقع پیدا کرنے کے لئے بھی ضروری ہیں۔پھر سمندر ہیں جن کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں جو سواریوں کو بھی اور سامانوں کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جاتی ہیں۔آج بھی اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ زیادہ تر تجارتی سامان انہی کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ سے ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتا ہے۔پھر ان سمندروں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے پانی کو خدا تعالیٰ بادلوں کی شکل میں لا کر پھر انسان کی زندگی کے سامان پیدا فرماتا ہے۔تو انسانوں اور حیوانوں کی خوراک کا انحصار بھی اس پانی پر ہے۔اگر یہ پانی نہ ہو تو زراعت کا سوال ہی نہیں۔ذراسی بارشوں میں کمی ہو جائے تو شور پڑ جاتا ہے اور اگر لمبا عرصہ بارشیں نہ ہوں تو قحط سالی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس صورت حال کو پانی کی اہمیت کو سورۃ الملک میں یوں بیان فرماتا ہے کہ قُلْ اَرَتَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ - مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيَكُمُ بِمَاءٍ مَّعِينٍ (الملک: 31)۔تو کہہ دے کہ مجھے بتاؤ کہ اگر تمہارا پانی زمین کی گہرائی میں غائب ہو جائے تو بہنے والا پانی تمہارے لئے خدا کے سوا کون لائے گا۔پس زمین کا پانی اس وقت زندگی بخشتا ہے۔جب خدا تعالی کا پانی آسمان سے اترتا ہے۔پھر ہواؤں کے اثرات بھی انسانی زندگی پر پڑتے ہیں۔نباتات پر پڑتے ہیں۔ہمارے زمیندار جو ہیں وہ جانتے ہیں اور اکثر ان میں باتیں مشہور ہوتی ہیں۔یہاں پاکستان ، ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں بھی جو اتنے ترقی یافتہ نہیں کہ ہوا کے رخ جو ہیں وہ فصلوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔اس طرف سے