خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 172

172 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حالانکہ رشتے کئی کئی سال قائم ہوتے ہیں اس کے بعد شادی ہوئی ہوتی ہے۔اور پھر اصل بات یہ ہے کہ یہ جب ایک دوسرے کے راز نہیں رکھتے ، باتیں جب باہر نکالی جاتی ہیں تو باہر کے لوگ بھی جو ہیں مشورہ دینے والے بھی جو ہیں وہ اپنے مزے لینے کے لئے یا ان کو عادتاً غلط مشورے دینے کی عادت ہوتی ہے وہ پھر ایسے مشورے دیتے ہیں کہ جن سے گھر ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے مشورہ بھی ایک امانت ہے۔جب ایسے لوگ ، ایسے جوڑے، مرد ہوں یا عورت بڑ کا ہو یا لڑ کی کسی کے پاس آئیں تو ایک احمدی کا فرض ہے کہ ان کو ایسے مشورے دیں جن سے ان کے گھر جڑیں ، نہ کہ ٹوٹیں۔پس مرد اور عورت کو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ پردہ پوشی بھی اس وقت ہوتی ہے جب غصہ پر قابو ہوا اور یہ اس وقت ہو گا جب خدا تعالیٰ کا خوف ہو گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ لباس تقوی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ اعراف میں کہ یبَنِي آدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِى سَوُا تِكُمْ وَرِيْشًا۔وَلِبَاسُ | التَّقْوى ذَلِكَ خَيْرٌ۔ذَلِكَ مِنْ ایتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ (الاعراف (27) کہ اے بنی آدم یقینا ہم نے تم پر لباس اتارا ہے جو تمہاری کمزوریوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت کے طور پر ہے اور رہا تقویٰ کا لباس تو وہ سب سے بہتر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے کچھ ہیں تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔یہاں پھر اس بات کا ذکر ہے جو میں پہلے بھی کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں لباس دیا ہے۔تمہارا ننگ ڈھانپنے کے لئے اور تمہاری خوبصورتی کے سامان کے لئے۔یہ تو ظاہری سامان ہے جو ایک تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا۔انسان کو دوسری مخلوق سے ممتاز کرنے کے لئے ایک لباس دیا ہے جس سے اس کی زینت بھی ظاہر ہوا اور اس کا ننگ بھی ڈھانپے۔لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اصل لباس، لباس تقویٰ ہے۔یہاں میں ایک اور بات کی بھی وضاحت کر دوں کہ ایک مومن کے اور ایک غیر مومن کے لباس کی زینت کا معیار مختلف ہوتا ہے اور کسی بھی شریف آدمی کے لباس کا ، جو زینت کا معیار ہے وہ مختلف ہے۔آج کل مغرب میں اور مشرق میں بھی فیشن ایبل (Fashionable) اور دنیا دار طبقے میں لباس کی زینت اُس کو سمجھا جاتا ہے بلکہ مغرب میں تو ہر طبقہ میں سمجھا جاتا ہے جس میں لباس میں سے ننگ ظاہر ہو رہا ہو اور جسم کی نمائش ہو رہی ہو۔مرد کے لئے تو کہتے ہیں کہ ڈھکا ہوا لباس زینت ہے۔لیکن مرد ہی یہ بھی خواہش رکھ رہے ہوتے ہیں کہ عورت کا لباس ڈھکا ہوا نہ ہو۔اور عورت جو ہے، اکثر جگہ عورت بھی یہی چاہتی ہے۔وہ عورت جسے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا ، اس کے پاس لباس تقویٰ نہیں ہے۔اور ایسے مرد بھی یہی چاہتے ہیں۔ایک طبقہ جو ہے مردوں کا وہ یہ چاہتا ہے کہ عورت جدید لباس سے آراستہ ہو بلکہ اپنی بیویوں کے لئے بھی وہی پسند کرتے ہیں تاکہ سوسائٹی میں ان کو اعلیٰ اور فیشن ایبل سمجھا جائے۔چاہے اس لباس سے ننگ ڈھک رہا ہو یا نہ ڈھک رہا ہو۔لیکن ایک مومن اور وہ جسے اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔چاہے مرد ہو یا عورت وہ یہی چاہیں گے کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے وہ لباس پہنیں جو خدا کی رضا کے حصول کا