خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 173

173 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ذریعہ بھی بنے اور وہ لباس اس وقت ہو گا جب تقویٰ کے لباس کی تلاش ہوگی۔جب ایک خاص احتیاط کے ساتھ اپنے ظاہری لباسوں کا بھی خیال رکھا جا رہا ہو گا اور جب تقویٰ کے ساتھ میاں بیوی کا جو ایک دوسرے کا لباس ہیں اس کا بھی خیال رکھا جائے گا اور اسی طرح معاشرے میں ایک دوسرے کی عیب پوشی کرنے کے لئے آپس کے تعلقات میں بھی کسی اونچ نیچ کی صورت میں تقویٰ کو مد نظر رکھا جائے گا۔اسی طرح معاشرے میں رہنے والے کی زندگی میں ، ایک دوسرے کے تعلقات میں کئی نشیب وفراز آتے ہیں۔رنجشیں بھی ہوتی ہیں، دوستیاں بھی ہوتی ہیں لیکن ایک مومن رنجشوں کی صورت میں اچھے وقتوں کی دوستیوں کے دور کی باتوں کو جو دوسرے دوست کی راز کی صورت میں معلوم ہوں دنیا کے سامنے بتاتا نہیں پھرتا۔اور نہ ہی میاں بیوی، جن کے دلوں میں تقویٰ ہو ایک دوسرے کے راز کو بتاتے پھرتے ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہمیشہ پردہ پوشی کرتا ہے۔پس یہ تقویٰ کا لباس ہے جو ظاہری لباس کے معیار بھی قائم کرتا ہے اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی کے معیار بھی قائم کرتا ہے اور اس کا حصول اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے بغیر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ شیطان ہر وقت تاک میں ہوتا ہے کہ کس طرح موقع ملے اور میں بندوں سے اس تقویٰ کے لباس کوا تا ر دوں۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے بلکہ جو میں نے آیت پڑھی اس کی انگلی آیت میں کہ يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمُ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوَاتِهِمَا۔إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ | وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيطِيْنَ اَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (الاعراف: 28) کہ اے بنی آدم! شیطان ہرگز تمہیں فتنہ میں نہ ڈالے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا تھا۔اس نے ان سے اُن کے لباس چھین لئے تھے تا کہ اُن کی برائیاں ان کو دکھائے یقیناً وہ اور اس کے غول تمہیں دیکھ رہے ہیں۔جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔یقیناً ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔پس جو ظاہری لباس کے جنگ کی میں نے بات کی ہے۔ایک مومن کبھی ایسا لباس نہیں پہن سکتا جو خود زینت بنے کی بجائے جسم کی نمائش کر رہا ہو۔یہاں بھی اور پاکستان میں بھی بعض رپورٹس آتی ہیں کہ دنیا کی دیکھا دیکھی بعض احمدی بچیاں بھی نہ صرف پردہ اتارتی ہیں بلکہ لباس بھی نا مناسب ہوتے ہیں اور یہ حرکت صرف وہی کر سکتا ہے جو تقومی کے لباس سے عاری ہو۔پس ہر احمدی عورت اور مرد سے میں یہ کہتا ہوں کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔بہترین لباس وہ ہے جو تقویٰ کا لباس ہے۔اُسے پہننے کی کوشش کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی بیماری ہمیشہ ہمیش ڈھانکے رکھے اور شیطان جو پردے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے جو انسان کو بنگا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو مومن نہیں ہے شیطان ان کا دوست ہے۔اگر تو ایمان ہے اور زمانہ کے امام کو بھی مانا ہے تو پھر ہمیں ایک خاص کوشش سے شیطان سے بچنے کی کوشش کرنی ہوگی اور اپنے آپ کو ہمیشہ اس لباس سے ڈھانکنا ہو گا جو تقویٰ کا لباس ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔