خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 171
171 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پس اس طرح جب ایک دفعہ ایک معاہدے کے تحت آپس میں ایک ہونے کا فیصلہ جب ایک مرد اور عورت کر لیتے ہیں تو حتی المقدور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایک دوسرے کو برداشت بھی کرنا ہے اور ایک دوسرے کے عیب بھی چھپانے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہ مردوں کو بھڑ کہنا چاہئے اور نہ ہی عورتوں کو۔بلکہ ایسے تعلقات ایک احمدی جوڑے میں ہونے چاہئیں جو اس جوڑے کی خوبصورتی کو دو چند کرنے والے ہوں۔ایسی زینت ہر احمدی جوڑے میں نظر آئے کہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔بعض دفعہ جولڑکیوں کی طرف سے یا لڑکوں کی طرف سے ایسے سوال اٹھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے دل نہیں ملے۔اگر تحقیق کی جائے تو صاف نظر آ رہا ہوتا ہے کہ دونوں نے ایک دوسرے کے تعلق کو سنجیدگی سے سمجھا ہی نہیں۔اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔بعض دفعہ تو لگتا ہے کہ شادی صرف ایک کھیل کے لئے کی گئی تھی۔برداشت بالکل نہیں ہوتی۔ذرا ذرا سی بات پر رائی کا پہاڑ بن رہا ہوتا ہے اور عجیب تکلیف دہ صورتحال سامنے آتی ہے۔پس بجائے ضد وں اور اناؤں کے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو اگر سامنے رکھیں تو کبھی مسائل کھڑے نہیں ہو سکتے۔اگر یہ عہد کریں کہ ہر حال میں ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے لئے تسکین کا باعث بنتے رہیں گے تو کبھی خرابیاں پیدا نہ ہوں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ یہ سب پر دے اس وقت چاک ہوتے ہیں جب جوش اور غیظ و غضب میں انسان بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اسے دبانے کی ضرورت ہے۔غصہ کو دبانا وہ عمل ہے جو خدا تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے اور اسے نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔پس ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے یہ عہد باندھا ہے کہ میں اپنی حالت میں پاک تبدیلی پیدا کروں گا، اپنے گھر یلو تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کروں گا تو اُس کو اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے جب ایسے جھگڑوں کا پتہ لگتا ہے اور چھوٹی چھوٹی رنجشوں کے اظہار کر کے گھروں کے ٹوٹنے کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔تو ہمیشہ ایک بچی کا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔جس نے ایک جوڑے کو بڑا اچھا سبق دیا تھا۔اُس کے سامنے ایک جوڑا لڑائی کرنے لگا یا بحث کرنے لگے یا غصہ میں اونچی بولنے لگے تو وہ بچی حیرت سے ان کو دیکھتی چلی جارہی تھی۔خیر اُن کو احساس ہوا ، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے اماں ابا کبھی نہیں لڑے؟ ان کو غصہ کبھی نہیں آتا؟ اس نے کہا ہاں ان کو غصہ تو آتا ہے لیکن جب امی کو غصہ آتا ہے تو ابا خاموش ہو جاتے ہیں اور جب میرے باپ کو غصہ آتا ہے تو میری ماں خاموش ہو جاتی ہے۔تو یہ برداشت جو ہے اسے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ابتداء میں ہی گھر ٹوٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔چند دن شادی کو ہوئے ہوتے ہیں اور فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دل نہیں مل سکتے۔