خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 170

170 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کہا ہے کہ میری صفات اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنانے کی کوشش کرو اور جب یہ ہوگا تو پھر کس قدرستاری اور درگزر اور رحم کے نظارے معاشرے میں نظر آئیں گے۔جب اس کا تصور کیا جائے تو بے اختیار اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور پھر آنحضرت ﷺ پر درود بھی ایک مومن بھیجتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے کامل دین کو آپ سے پر اتار کر ایک احسان عظیم ہم پر فرمایا ہے۔ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: قرآن شریف میں خدا نے جو یہ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے بندو! مجھ سے نا امید مت ہو۔میں رَحِیم كَرِیم اور ستار اور غَفَّار ہوں اور سب سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہوں اور اس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرے گا جو میں کرتا ہوں۔اپنے باپوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ در حقیقت میں محبت میں ان سے زیادہ ہوں۔اگر تم میری طرف آؤ تو میں سارے گناہ بخش دوں گا۔اور اگر تم تو بہ کرو تو میں قبول کروں گا اور اگر تم میری طرف آہستہ قدم سے بھی آؤ تو میں دوڑ کر آؤں گا۔جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے گا وہ بھی میرے دروازہ کو کھلا پائے گا۔میں تو بہ کرنے والے کے گناہ بخشتا ہوں خواہ پہاڑوں سے زیادہ گناہ ہوں۔میر ارحم تم پر بہت زیادہ ہے اور غضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو۔میں نے تمہیں پیدا کیا اس لئے میر ارحم تم سب پر محیط ہے“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 56) پس اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہی وہ راستے سکھائے ہیں کہ جن سے اس کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ایمان میں کامل بننے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو۔بندوں کے حقوق ادا کرو۔اعمال صالحہ بجالاؤ اور ان اعمال صالحہ کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر بھی فرما دیا کہ کون کون سے اعمال ہیں جو تمہیں بجالانے چاہئیں۔کون سے ایسے اعمال ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔کون سے اعمال ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نا پسند فرماتا ہے۔پس ان تمام اوامر کے کرنے اور نواہی سے بچنے کی مومن کو کوشش کرنی چاہئے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے تا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ستاری اور رحم سے حصہ لینے والے بنتے رہیں۔گزشتہ خطبہ میں میں نے میاں بیوی کے تعلقات کا بھی مختصر اذکر کیا تھا کہ بعض حالات میں کس طرح آپس کے اختلافات کی صورت میں ایک دوسرے پر گندا چھالنے سے بھی دونوں فریق باز نہیں رہتے اور یہ بات خدا تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ، میاں کو بھی اور بیوی کو بھی ، کس طرح ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا احساس دلایا ہے۔فرماتا ہے هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ( البقرة : 188) یعنی وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کالباس ہو۔یعنی آپس کے تعلقات کی پردہ پوشی جو ہے وہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔قرآن کریم میں ہی خدا تعالیٰ نے جو لباس کے مقاصد بیان فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ لباس جنگ کو ڈھانکتا ہے، دوسرے یہ کہ لباس زینت کا باعث بنتا ہے، خوبصورتی کا باعث بنتا ہے، تیسرے یہ کہ سردی گرمی سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔