خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 138
138 خطبہ جمعہ فرمود : 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کرتے ہو؟ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو میں اس پر بھی سزا لاگو کرتا۔تو یہ انصاف کا معیار تھا جو آپ نے قائم فرمایا۔( صحیح بخاری کتاب الحدود - باب اقامتہ الحدود على الشريف باب کراھیة فی الحد - حدیث نمبر 6788-6787) ایک مرتبہ ابوذر غفاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے دولڑکوں کو لے جا کر یہ سفارش کی کہ ان کا بھی یہ خیال ہے اور مجھے بھی یہی خیال ہے کہ زکوۃ کی وصولی پر ان کو لگایا جائے۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوذر جسے عہدہ کی خواہش ہو ہم اسے عہدہ نہیں دیتے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب النھی عن طلب الامارۃ حدیث : 4717) جب خدا دیتا ہے تو پھر توفیق دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کی مددبھی کرتا ہے۔اس خواہش کے بغیر کوئی شخص کسی بھی خدمت پر معمور کیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالی توفیق دیتا ہے کہ اس کی مدد بھی کرے اور اس میں برکت بھی ڈالے۔فرمایا کہ جب مانگ کر لیا جائے تو پھر کام جو ہے وہ حاوی کر دیا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٹھیک ہے تم نے مانگ کے کام لیا، ہم سمجھتے ہو میں اس کا اہل ہوں ، تمہاری آگے آنے کی بڑی خواہش تھی تو پھر یہ ساری ذمہ داریاں نبھاؤ۔میں دیکھوں تم کس حد تک نبھاتے ہو؟ پس عہدے کی خواہش جو ہے اس میں نفس پسندی کا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ انسان اپنے نفس کا زیادہ سے زیادہ اظہار کرے۔آج بھی بعض دفعہ جماعت میں جن جگہوں پر جن جماعتوں میں تربیت کی کمی ہے ، جن لوگوں میں تربیت کی کمی ہے وہ اب عہدے کی خواہش کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ علم نہ ہونے کی وجہ سے بعض جگہوں پہ جب جماعتی انتخابات ہوتے ہیں اپنے آپ کو ووٹ بھی دے لیتے ہیں۔تو بہر حال اب تو اللہ کے فضل سے کافی حد تک جماعت کے افراد کو سوائے ایک آدھ کے جو نیا ہو ان باتوں کا، قواعد کا علم ہو چکا ہے۔اپنے آپ کو ووٹ دینے کی پابندی اس لئے جماعت میں ہے کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عہدے کی خواہش نہ کرو۔اپنے آپ کو ووٹ دینے کا مطلب ہے کہ میں اس عہدے کا اہل ہوں اور میرے سے زیادہ کوئی اہل نہیں ہے اس لئے مجھے بنایا جائے۔اسی طرح بعض لوگ انتخابات جب ہوتے ہیں تو اگر اپنے آپ کو ووٹ نہیں بھی دیتے اس مجبوری کی وجہ سے کہ جماعت کے قواعد اجازت نہیں دیتے تو پھر وہ اپنا ووٹ استعمال بھی نہیں کرتے۔اپنے ووٹ کو استعمال نہ کرنا بھی اس بات پر محمول کیا جاتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں اس بات کا اہل ہوں۔گو کہ قواعد کی رو سے میں ووٹ تو نہیں دے سکتا لیکن کوئی دوسرا شخص میرے سے زیادہ اس بات کا اہل نہیں ہے اس لئے میں ووٹ استعمال نہیں کرتا۔تو اس بات سے بھی بچنا چاہئے یہ بھی تربیت کے لئے بہت ضروری چیزیں ہیں۔اگر کسی میں کسی بھی قسم کی صلاحیت ہے تو اس صلاحیت کا اظہار چاہے وہ پیشہ وارانہ ہو یا اور علمی نوعیت کی ہو یا کسی بھی قسم کی ہو تو اس صلاحیت کا اظہار عہد یدار ان کی یا دوسرے کی مدد کر کے کیا جا سکتا ہے۔بغیر عہدے کے بھی خدمت کی جاسکتی ہے۔اگر تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خدمت کرنی ہے تو پھر عہدے کی خواہش تو کوئی چیز نہیں ہے پس اس بات کو ہر احمدی کو نئے آنے والوں کو بھی نو جوانوں کو بھی اور پرانوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض پرانے احمدی بھی بعض دفعہ اس زعم میں کہ ہم زیادہ تجربہ کار ہیں زیادتی کر جاتے ہیں ایسے عہدیداروں کو بھی خیال رکھنا چاہئے ، عہد یداروں