خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 137

137 خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس کا حق ادا کروں اور اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میں یہ کر رہی ہوں گی تو اس کا ثواب ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے دونوں فریقوں کو یہ بتایا کہ اگر تم اس طرح کرو تو تمہارا یہ فعل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے عبادت بن جائے گا۔اس کا ثواب ملے گا۔تو یہ چیزیں ہیں جو انسان کو سوچنی چاہئیں اور یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بعض گھروں کو جنت نظیر بنا دیتی ہیں۔آنحضرت کی عبادت کے بارہ میں حضرت عائشہ سے ہی ایک روایت ہے، کہتی ہیں ایک رات میں نے دیکھا کہ آپ تہجد کی نماز میں سجدے میں پڑے ہیں اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اللہ تیرے لئے میرے جسم و جان سجدے میں ہیں۔میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔اے میرے رب یہ دونوں ہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔اے عظیم ! جس سے ہر عظیم بات کی امید کی جاتی ہے۔میرے گناہوں، میرے عظیم گناہوں کو بخش دے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں۔اس کے بعد جب نماز سے، دعا سے، فارغ ہوئے پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ جبریل نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لئے کہا ہے اور تم بھی یہ پڑھا کرو۔مجمع الزوائد جلد 2 کتاب الصلاۃ باب ما يقول في رکوع وسجودہ۔حدیث نمبر 2775 - دار الکتب العلمیة بیروت طبع اول 2001ء) اب دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے جس کا مل بندے سے اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ پہلے یہ اعلان کروایا تھا کہ دنیا کو بتا دو کہ میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی ، میری موت سب خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔کوئی کام نہیں جو میں اپنے لئے کروں یا اپنی مرضی سے کر رہا ہوں۔یا اپنی کسی ذاتی خواہش کی وجہ سے کر رہا ہوں۔بلکہ میرا ہر عمل اور ہر فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کامل بندہ کس طرح اپنی بندگی کے کامل ہونے کا اظہار کر رہا ہے۔بڑی عاجزی اور خشیت سے یہ دعا مانگ رہا ہے کہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، میرے گناہوں کو بخش دے۔دراصل یہ نمونے ہمارے لئے قائم کئے گئے ہیں کہ کسی بھی قسم کی نیکی پرکسی بھی قسم کا تفاخر نہ کر و فخرتم میں پیدا نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے بنتے ہوئے اس کے آگے جھکے رہو اور اس کی رحمت طلب کرتے رہو۔پھر آپ کی سیرت کا ایک اور پہلو ہے وہ میں اس وقت لیتا ہوں۔جو انصاف اور مساوات سے متعلق ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ جب بڑے آدمی سے جب کوئی قصور ہوتا تھا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور جب کمزور کسی جرم کا مرتکب ہوتا تو اسے سزادی جاتی تھی۔تو یہ میری امت میں نہیں ہونا چاہئے۔لیکن آج کل اگر ہم دیکھیں تو کثرت سے یہ نظر آتا ہے، بے انصافیاں ،مسلمانوں میں پیدا ہو چکی ہیں۔ایک قبیلہ کی مشہور عورت جوا اچھے خاندان کی اچھی پوزیشن کی عورت تھی اس نے چوری کی ، اس کا نام فاطمہ تھا اور اس پر آنحضرت مے نے چوری کی سزالا گو کی۔صحابہ نے اس کے لئے جان بچانے کے لئے کوشش کی۔آخر کسی کو جرات نہ ہوئی تو حضرت اسامہ کو سفارش کے لئے بھیجا۔جب انہوں نے سفارش کی تو آپ کا چہرہ ایک دم متغیر ہوگیا اور فرمایا کہ تم اس کی بات