خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 139
خطبات مسرور جلد هفتم 139 خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 2009 میں خاص طور پر بے نفسی ہونی چاہئے۔نام کی بے نفسی نہیں بلکہ حقیقی بے نفسی۔عہدیداران کو آنحضرت ﷺ الفاظ ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں کہ عہد یدار قوم کا خادم ہے۔پھر ایک موقع پر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو مخاطب کر کے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عہدہ ایک امانت ہے اور انسان بہر حال کمزور ہے۔یہ امانت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اور انسان کمزور ہے اگر امانت کا حق ادا نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پوچھے جاؤ گے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب کرامتہ الامارة بغير ضرورة حدیث : 4719) پس اس امانت کا حق ادا کرنے کے لئے انتہائی عاجزی سے اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اس خدمت کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پہلی بات تو یہ فرمائی کہ عہد یدار قوم کا خادم ہوتا ہے۔خدمت کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ، ہر معاملے میں ، ہر قدم پر، ہرلمحہ پر دعا مانگے کہ اللہ تعالیٰ میری راہنمائی فرماتا رہے۔تبھی عہدیدار اپنا خدمت کا حق، عہدے کا حق صحیح ادا کر سکیں گے۔بعض دفعہ میرے پاس بھی لوگ آتے ہیں۔پوچھوں کہ کوئی کام ہے؟ تو جماعتی خدمات کا بتاتے ہیں۔جب بھی پوچھو تو کہتے ہیں کہ میرے پاس آج کل یہ عہدہ ہے تو نو جوانوں کی تو میں یہ اصلاح کر دیا کرتا ہوں۔اکثر میں ان کو یہ کہتا ہوں کہ یہ تمہارے پاس عہدہ نہیں یہ تمہارے پاس خدمت ہے۔خدمت کا تصور پیدا کرو گے تو سبھی صحیح طور پر خدمت کر سکو گے۔یہ نمونے تھے جو میں نے بیان کئے ہیں۔آپ نے خدمت کے بارے میں، انصاف کے بارے میں، مساوات کے بارے میں ، سادگی کے بارے میں جو احکام دئے آپ کی زندگی میں ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔اگر کہیں سفر پہ جارہے ہیں، سواریاں کم ہیں تو آپ کا جو غلام ہے، بعض دفعہ غلام تو نہیں تھے لیکن بہر حال صحابہ میں سے جو بھی کم عمر تھے، سواریاں اگر دود کو بانٹی گئی ہیں تو آپ کے حصہ میں جو سواری آئی آپ نے جس طرح کچھ وقت کے لئے سواری کا اپنا حق استعمال کیا اسی طرح اپنے ساتھی کو بھی دیا اور خود پیدل چلے تو یہ انصاف اور مساوات آپ نے ہمیشہ قائم فرمائی۔پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کا جو یہ فرمان ہے کہ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدة: 9) یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کریں کہ تم انصاف نہ کرو۔تم انصاف کرو کہ وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔آپ نے اس بارہ میں کیسا عظیم نمونہ دکھایا اس بارے میں ایک مثال میں دیتا ہوں۔یہودیوں کا مشہور قلعہ خیبر جب فتح ہوا تو اس کی زمین مجاہدین جو جنگ میں شامل ہوئے تھے میں تقسیم کر دی گئی۔جب وہ زمین تقسیم ہوئی ، وہ زرخیز علاقہ تھا۔وہاں کھجوروں کے باغ تھے۔تو جب کھجوروں کی فصل ہوئی اور اس کی بٹائی کا وقت آیا ، جب بانٹنے کا وقت آیا تو حضرت حضرت عبداللہ بن سہیل اپنے چچا زاد بھائی محیصہ کے ساتھ کھجوروں کی بٹائی کے لئے وہاں زمین پر گئے تو تھوڑی دیر کے لئے دونوں وہاں سے الگ ہوئے۔اس عرصہ میں جب وہ الگ ہوئے تو حضرت عبداللہ کو کسی نے اکیلا سمجھ کے وہاں قتل کر دیا اور ان کی لاش گڑھے میں پھینک دی۔کیونکہ یہودیوں سے زمین لی گئی ہے وہاں