خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 110
110 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اور یہ لکھتے ہیں کہ میرے والد محترم مولوی محمد قاسم صاحب بھی بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو چکے تھے لیکن میرا اس طرف رجحان نہیں ہوتا تھا۔تاہم اس خواب کے بعد میرا رجحان اس طرف (جماعت کی طرف ) ہوا اور میں نے اپنے والد صاحب کی طرح شرح صدر سے بیعت کر لی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کر لینے کے بعد مجھے اسلام سے ایسی محبت اور لگاؤ پیدا ہو گیا اور ایسا فہم وفراست اللہ تعالیٰ نے عطا فر مایا کہ میں عیسائیوں کے سامنے نہایت جرات اور یقین سے اسلام کی حقانیت اور عیسائیت کے بطلان ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہو جایا کرتا تھا۔( روح پرور یا دیں۔صفحہ 142) پھر خلافت ثانیہ کے زمانے کا ہی ایک اور واقعہ ہے۔سیرالیون کے ابتدائی احمدی دوست پاسا نفاتولا Sanfatula) پر عجیب رنگ میں اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ سے احمدیت کی صداقت کا انکشاف فرمایا۔کہتے ہیں کہ ” 1939 ء کے دوران ایک موقع پر جبکہ میں ٹو نیاں باؤ کا ہون ریاست کے ایک گاؤں میں رہائش رکھتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ مالکیہ مسجد کے ارد گرد سے گھاس صاف کر رہا ہوں (افریقہ میں عموماً ما لکی فرقہ کے لوگ زیادہ ہیں جو ہاتھ چھوڑ کر نمازیں پڑھتے ہیں۔) کہتے ہیں ”جب میں نے کچھ دیر کام کر کے تھکان محسوس کی تو مسجد کے قریب ہی ایک پام کے درخت کے نیچے ذرا ستانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔اسی اثناء میں کیا دیکھتا ہوں ( یہ سارا خواب کا ذکر چل رہا ہے ) کہ میرے سامنے کی جانب سے سفید رنگ کے ایک اجنبی دوست ہاتھ میں قرآن کریم اور بائبل پکڑے میری طرف آ رہے ہیں۔میرے قریب پہنچ کے انہوں نے السلام علیکم کہا اور پھر مجھ سے دریافت کیا کہ اس مسجد کے امام کون ہیں۔میں انہیں ملنا چاہتا ہوں۔اس پر میں ان سے رخصت لے کر امام مسجد کو بلانے چلا گیا جن کا نام الفا (Alpha) تھا۔ہم واپس آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مسجد میں ایک سایہ دار کھڑ کی سی تیار ہو چکی ہے اور وہ اجنبی شخص ہماری مسجد میں خود امام کی جگہ پر محراب میں کھڑے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ہم دونوں کو حکم دیا کہ اس سایہ دار جگہ میں بیٹھ کر ہم انہیں قرآن سنائیں۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ اجنبی شخص مسجد سے نکل کر ہمارے پاس آئے اور ہمارے امام سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تمہیں نماز کا صحیح طریق سکھانے کے لئے آیا ہوں۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔بیدار ہو گیا اور صبح ہوتے ہی اس کا ذکر میں نے اپنے مسلمان دوستوں سے کر دیا۔پھر بیان کرتے ہیں کہ اس خواب کے قریباً ایک ہفتہ بعد صبح کے وقت میں نے اپنی کدال لی اور اپنی اسی مالکیہ مسجد کے صحن میں گھاس صاف کرنے لگا۔قریباً نصف گھنٹے کے کام کے بعد میں نے کچھ تھکان سی محسوس کی اور قریب ہی ایک پام کے درخت کے سائے کے نیچے آرام سے کھڑا ہو گیا۔ابھی چند منٹ گزرے تھے کہ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے سے الحاج مولانا نذیر احمد علی صاحب تشریف لا رہے ہیں۔آپ نے قریب آ کے مجھے السلام علیکم کہا اور رہائش کے لئے جگہ وغیرہ دریافت کی۔کہتے ہیں کہ یہ بات اس لئے تعجب انگیز تھی کہ جو خواب میں نے ابھی چند یوم پہلے دیکھا تھا بعینہ وہ آج اسی طرح پوری ہو رہی تھی۔( یعنی مولوی الحاج نذیر احمد علی صاحب ہی وہ بزرگ تھے جو خواب