خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 109

109 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بہر حال آج ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فریادوں کو قبول فرمایا اور آپ کی تائید میں جو نشانات دکھائے اس کے نتیجے بھی ظاہر ہورہے ہیں اور کس طرح قبولیت احمدیت کے نظارے دکھا رہا ہے۔لوگوں کے دلوں کو کس طرح مائل کرتا ہے اس کے بھی بعض واقعات ہیں۔ملک صلاح الدین صاحب ایم اے، مولوی رحیم اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یہ اس زمانے کی بات ہے کہ مولوی رحیم اللہ صاحب اعلیٰ درجہ کے موحد تھے۔آپ کو اکثر فقراء اور سجادہ نشینوں کی خدمت میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا مگر سب کو شرک کے کسی نہ کسی رنگ میں ملوث پایا اور آپ کا دل کسی کی بیعت کے لئے آمادہ نہ ہوا۔حتی کہ اخوند صاحب سوات کا بھی شہرہ سن کر اتنا لمبا سفر طے کر کے وہاں پہنچے اور بیعت کے لئے عرض کی۔اخوند صاحب نے مولوی صاحب کو اپنی صورت کا تصور دل میں رکھنے کی تلقین کی۔اس پر آپ چشم پر آب ہو گئے اور کہا افسوس میرا اتنا دور دراز کا سفر اختیار کرنا رائیگاں گیا۔اخوند صاحب بھی شرک کی ہی تلقین کرتے ہیں اور پھر بغیر بیعت کئے واپس لوٹے۔مولوی صاحب صوفی منش اور سادہ طبیعت کے تھے۔طبیعت میں بڑا انکسار تھا۔خلوت پسند تھے۔عاشق قرآن اور حدیث تھے۔باخدا بزرگ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خاص مناسبت اور عشق تھا۔بہر حال بعد میں جب حضرت مسیح موعود کی بیعت میں آئے تو ان کا یہ حال تھا ( جو روایت کرنے والے ہیں، کہتے ہیں ) کہ کئی بار نماز پڑھاتے ہوئے عالم بیداری میں آپ کو کشفی حالت طاری ہوئی اور نیز آپ کو حضرت رسول کریم ﷺ ار کی اور انبیاء کی زیارت بار بار و یا وکشوف میں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت آپ پر نہایت عجیب اور بین الہام رویاء اور کشف سے واضح ہوئی تھی۔چنانچہ فرماتے تھے کہ میں نے حضرت کے دعا وی کے متعلق استخارہ کیا تو جواب میں ایک ڈولا ( یعنی پالکی سی تھی ) کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا اور میرے دل میں القاء ہوا کہ حضرت مسیح آسمان سے اتر آئے ہیں۔جب پالکی کا پردہ اٹھا کر دیکھا تو اس کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پایا۔تب میں نے بیعت کر لی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد اول صفحه 65-66 مطبوعہ ربوہ ) پھر خلافت ثانیہ میں نجی کا ایک واقعہ ہے۔جزائر فجی میں احمدیت کے چرچے اور احمد یہ مشن کے قیام سے پہلے وہاں عیسائیت کا بڑا زور تھا اور حضرت عیسی کی آسمان سے آمد کے عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح منتظر تھے۔بشیر خان صاحب لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے میرے دل میں خیال گھر کرنے لگا کہ عیسائیت کچی ہے اور عیسائی ہو جانے میں کوئی حرج نہیں۔تاہم اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔میں ابھی عیسائی نہیں ہوا تھا بلکہ سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے خواب میں ایک نہایت بزرگ انسان ملے۔انہوں نے بڑے جلال سے مجھے فرمایا "محمد بشیر ہوش کرو جس شخص کی تمہیں تلاش ہے وہ عیسی یا مسیح ناصری نہیں ہے بلکہ وہ کوئی اور ہے اور دنیا میں ظاہر ہو چکا ہے۔اس وقت جزائر نجی کے پہلے مبلغ جناب شیخ عبد الواحد صاحب بھی میں آچکے تھے