خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 108

108 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت بڑھی ہوئی تھی اور جیسا کہ پیشگوئیوں میں تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں طاعون کا نشان بھی دکھایا۔لیکن جب یہ نشان ظاہر ہوا تو اس وقت باوجود اس کے کہ یہ نشان آپ کی تائید میں ظاہر ہوا تھا آپ کی طبیعت میں ایک بے چینی اور اضطراب تھا اور لوگوں کی ہمدردی کے جذبہ سے بعض دفعہ آپ کی حالت غیر ہو جاتی تھی۔آپ کی دعاؤں کا نقشہ ، جس طرح آپ قوم کے لئے تڑپ کر دعا کرتے تھے ، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔کہتے ہیں کہ ان دنوں میں بیت الدعا کے اوپر حجرے میں تھا اور اس جگہ کو میں خاص طور پر بیت الدعا کے لئے استعمال کیا کرتا تھا اور وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حالت دعا میں گریہ وزاری کو سنا کرتا تھا۔آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سننے والے کا پتہ پانی ہوتا تھا اور آپ اس طرح آستانہ الہی پر گریہ وزاری کرتے تھے جیسے کوئی عورت دردزہ سے بے قرار ہو۔وہ فرماتے تھے کہ میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق الہی کے لئے طاعون کے عذاب سے نجات کے لئے دعا کرتے تھے۔کہ الہی !اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو جائیں گے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا؟ سیرت حضرت مسیح موعود کے شمائل و عادات اور اخلاق کا تذکرہ حصہ سوم صفحہ 428 ) یہ خلاصہ اور مفہوم ہے اس روایت کا جو مولوی عبدالکریم صاحب نے بیان کی کہ باوجود یکہ طاعون کا عذاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب اور انکار کے باعث ہی آیا تھا مگر آپ مخلوق کی ہدایت اور ہمدردی کے لئے اس قدر بے چین اور حریص تھے کہ اس عذاب کے اٹھائے جانے کے لئے گہری سنسان رات میں تاریکی میں، رور وکر دعائیں کر رہے ہیں جبکہ باقی دنیا آرام سے سورہی تھی۔تو یہ تھا آپ کا شفقت علی خلق اللہ کا رنگ اور بے نظیر نمونہ۔بہر حال طاعون کا جو یہ نشان تھا ، یہ بھی بہت سوں کے لئے ہدایت کا باعث بنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اپنے بیان میں کس طرح بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ: ہے۔اکثر دلوں پر چُپ دنیا کا گرد بیٹھا ہوا ہے۔خدا اس گرد کو اٹھاوے۔خدا اس ظلمت کو دور کرے۔دنیا بہت ہی بے وفا اور انسان بہت ہی بے بنیاد ہے۔مگر غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم رکھا خداوند کریم سے یہی تمنا ہے کہ اپنے عاجز بندوں کی کامل طور پر دستگیری کرے اور جیسے انہوں نے اپنے گزشتہ زمانہ میں طرح طرح کے زخم اٹھائے ہیں، ویسا ہی ان کو مرہم عطا فرمادے اور ان کو ذلیل اور رسوا کرے جنہوں نے نور کو تاریکی اور تاریکی کونو سمجھ لیا ہے اور جن کی شوخی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور نیز ان لوگوں کو بھی نادم اور منفعل کرے جنہوں نے حضرت احدیت کی توجہ کو جو عین اپنے وقت پر ہوئی غنیمت نہیں سمجھا اور اس کا شکر ادا نہیں کیا۔بلکہ جاہلوں کی طرح شک میں پڑے۔سو اگر اس عاجز کی فریاد میں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جو نور محمدی اس زمانے کے اندھیروں پر ظاہر ہو اور الہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلائیں۔( مکتوبات ام جلداول صفحہ 513-512 مکتوب نمبر 5جدیدایڈیشن مطبوعہ ربوہ (سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 551)