خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 107

107 خطبه جمعه فرموده 27 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کی ، دیکھا کہ میرے ماتھے پر آنکھ کے درمیان کوئی چیز چمک رہی ہے۔تو میں نے دعا کی کہ اے اللہ! یہ نشان میرے چہرے کے علاوہ کہیں دکھا دے کیونکہ اس سے تو میری قوم والے کہیں گے کہ تمہارا چہرہ بگڑ گیا ہے۔تو کہتے ہیں وہی روشنی کا نشان میری جوسوئی تھی یا چابک تھی اس کے سرے پر ظاہر ہوا اور جب میں سواری سے اتر رہا تھا تو لوگوں نے اس نشان کو دیکھا۔بہر حال اپنے قبیلے میں پہنچے۔انہوں نے کہا اگلے دن میرے والد مجھے ملنے آئے تو میں نے کہا کہ میرا اور آپ کا تعلق آج سے ختم ہے، انہوں نے کہا وجہ؟ میں نے کہا میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور آنحضرت کی بیعت میں آ گیا ہوں۔تو والد نے کہا کہ مجھے بھی بتاؤ کیا ہے؟ میں نے انہیں کہا کہ جائیں پہلے غسل کریں۔غسل کر کے، نہا دھو کے آئے۔میں نے انہیں اسلام کی تعلیم کے بارہ میں بتایا۔انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔پھر میری بیوی میرے پاس آئی۔اس کو بھی میں نے یہی کہا کہ تمہارا میرے سے تعلق ختم ہو گیا ہے اور میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔اس نے بھی یہی بات کی۔اس کو بھی میں نے کہا کہ تم پہلے صاف ستھری ہو کے آؤ تا کہ تمہیں اسلام کی تعلیم دوں۔خیر وہ بھی اسی طرح آئی اور اسلام قبول کر لیا۔کچھ عرصے بعد پھر انہوں نے اپنی قوم کو بھی تبلیغ شروع کر دی۔یہ دوس قبیلہ کے تھے۔لیکن بڑی سخت مخالفت ہوئی۔یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کی کہ قبیلہ تو میری بڑی مخالفت کر رہا ہے۔آپ میرے قبیلے کے لوگوں کے خلاف بددعا کریں۔تو آنحضرت ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! دوس کے قبیلے کو ہدایت عطا فرما۔پھر آپ کو فرمایا کہ واپس جائیں اور بڑی نرمی سے اور پیار سے اپنے قبیلے کو تبلیغ کریں۔بہر حال کہتے ہیں میں تبلیغ کرتا رہا۔(السيرة النبويه لابن هشام قصة اسلام الطفيل بن عمر الدوسي صفحه 277 278 دار الكتب العلمية بيروت (2001ء اس عرصہ میں آنحضرت مکہ مکہ سے ہجرت کر گئے اور وہاں جا کے بھی کفار مکہ نے اسلام کے خلاف بڑی شدت سے حملے شروع کر دیئے تو کہتے ہیں کہ جب جنگ احزاب ہوئی تو اس کے بعد میرے قبیلے کے کافی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور بڑی تعداد اسلام میں داخل ہوگئی۔طفیل بن عمرو، جو طفیل بن عمرو دوسی کہلاتے ہیں اس کے بعد پھر یہ 70 خاندانوں کے ساتھ مدینے میں ہجرت کر گئے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد الطبقة الثانية من المهاجرين جزء 4 صفحه 440-439 دار احياء التراث العربي بيروت (1996 پس ہدایت کی جو دعا آنحضرت ﷺ نے کی اس کا ایک وقت اللہ تعالیٰ نے رکھا ہوا تھا۔کئی سالوں کے بعد جا کر اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا اور قبیلہ مسلمان ہو گیا۔اس طرح آنحضرت ﷺ نے کبھی جلد بازی سے کام نہیں لیا۔طائف کے سفر پر گئے تھے وہاں بھی جب فرشتوں نے پہاڑ گرانے کے لئے کہا تو آنحضرت ﷺ نے ہدایت کی دعا ہی مانگی تھی کہ اس قوم میں سے لوگ ہدایت پائیں گے۔تو یہ تھا آپ کا طریقہ۔اسی لئے آپ نے یہ دعا بھی ہمیں سکھائی ہے۔اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون - ( الشفاء لقاضی عیاض جلد اول صفحہ 73- الباب الثاني في تحميل الحاسن - الفصل : واما الحلم - دارالکتب العلمية بيروت 2002 ء ) یہ دعا اس زمانے کے لئے بھی ہے۔پڑھتے رہنی چاہئے۔جب آپ نے دعوی کیا تو اس زمانہ میں حضرت مسیح