خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 99
خطبات مسرور جلد ہفتم 99 خطبه جمعه فرمود ه 20 فروری 2009 اب پتہ لگ جائے گا کہ کتنا کام کرتی ہے کشمیر کمیٹی اور دنیا نے پھر دیکھ لیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس صورت حال کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” نہایت قلیل عرصے کی جنگ کے بعد اس طرح کا ایک نظام قائم کر دیایا اس کمیٹی نے عوام کی تحریک میں اتناز ور پیدا کر دیا کہ حکومت انگریزی نے بھی ہتھیار ڈال دیئے اور کشمیر کا صدیوں کا غلام آنکھیں کھول کر آزادی کی ہوا کھانے لگا اور اہل کشمیر کو اسمبلی ملی۔پریس کی آزادی ملی۔مسلمانوں کو ملازمتوں میں برابری کے حقوق ملے۔فصلوں پر قبضہ ملا۔تعلیم کی سہولتیں ملی۔جو بات نہیں ملی اس کے ملنے کا رستہ کھل گیا۔اہل کشمیر نے پبلک جلسوں میں امام جماعت احمد یہ زندہ باد اور صدر کشمیر کمیٹی زندہ باد کے نعرے لگائے۔“ (ماخوذ از سلسلہ احمدیہ مطبوعہ 1939 ء صفحہ (409) جب ان کو آزادی ملی تو غیروں نے بھی یہ نعرے لگائے۔کشمیر والوں کا جن کی رستگاری کا موجب ہوئے اس وقت حال یہ تھا کہ اس طرح غلام بنائے گئے تھے کہ خود حضرت مصلح موعود اس کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم کشمیر میں گئے ہوئے تھے۔ہمارے پاس کافی سامان تھا تو میں نے ایک سرکاری افسر صاحب کو کہا کہ ہمیں مزدور کا انتظام کر دو۔تو سڑک پر ایک آدمی چلا جا رہا تھا۔اس نے کہا ادھر آؤ اور اسے سامان اٹھوا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص بڑا ہائے وائے کرنے لگ گیا۔تو میں نے اسے کہا کہ کشمیری تو بہت مضبوط ہوتے ہیں۔تم سے سامان نہیں اٹھایا جا رہا۔اس نے کہا میں تو اپنے علاقے کا بڑا زمیندار ہوں اور اس وقت میری شادی ہو رہی ہے بلکہ آج دولہا بھی ہوں۔میں تو سڑک پر جارہا تھا تو اس نے پکڑ کے مجھے آپ کا سامان پکڑا دیا۔کیونکہ ان کی حکومت ہے اس لئے میں ان کے سامنے چوں چرا نہیں کر سکتا۔تو یہ ان کا حال تھا کہ اچھے کھاتے پیتے لوگ بھی ایک عام چھوٹے سے سرکاری افسر کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔پھر علوم ظاہری و باطنی جو قرآن کریم کا دینی علم ہے اس کے بارہ میں غیروں کا کیا کہنا ہے۔علامہ نیاز فتح پوری صاحب مدیر ماہنامہ نگار لکھتے ہیں کہ تفسیر کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تبحر علمی ، آپ کی وسعت نظر، آپ کی غیر معمولی فکر وفر است، آپ کا حسن استدلال، اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔کل سورۃ ھود کی تفسیر میں حضرت لوط علیہ السلام پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا۔آپ نے ھؤلاء بَنَاتِی کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔خدا آپ کو تا دیر سلامت رکھے۔(الفضل 17 نومبر 1963ء۔صفحہ 3۔بحوالہ ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعود نمبر جون ، جولائی 2008 صفحہ 324-325)