خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 98
98 خطبہ جمعہ فرموده 20 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پھر پیشگوئی میں الفاظ تھے کہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔یہ پیشگوئی بھی کس شان سے پوری ہوئی ہے۔آج تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ جہاد کے خلاف ہیں اور کشمیریوں کے خلاف ہیں لیکن جو کوششیں حضرت مصلح موعود نے کی تھیں میں ان کے بارہ میں کچھ بتا تا ہوں۔تحریک آزادی کشمیر آپ نے شروع کی تھی کیونکہ آل انڈ یا کشمیر کمیٹی جو بنائی تھی اس کا سہرا آپ کے سر پر ہے۔اس میں بہت بڑے بڑے مسلم لیڈر سرذوالفقارعلی خان، ڈاکٹر اقبال، خواجہ حسن نظامی، سید حبیب مدیر اخبار سیاست وغیرہ شامل ہوئے اور ان سب کے مشورہ سے حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو اس کمیٹی کا صدر چنا گیا۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے کشمیری مسلمان جو مدتوں سے انسانیت کے ادنی حقوق سے بھی محروم تھے ان کو آزادی دلوائی گئی۔مسلم پریس نے حضرت مصلح موعودؓ کے ان شاندار کارناموں کا اقرار کیا اور آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہاں تک لکھا۔کہ جس زمانے میں کشمیر کی حالت نازک تھی اور اس زمانے میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا۔انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔اس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی اور امت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا۔اخبار سیاست 18 مئی 1933ء۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 289 مطبوعہ ربوہ ) عبدالمجید سالک صاحب تحریک آزادی کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شیخ محم عبد اللہ ( شیر کشمیر ) اور دوسرے کارکنان کشمیر مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے بعض کار پردازوں کے ساتھ۔۔۔اعلانیہ روابط رکھتے تھے اور ان روابط۔۔۔۔کی بنا محض یہ تھی کہ مرزا صاحب کثیر الوسائل ہونے کی وجہ سے تحریک کشمیر کی امداد کئی پہلوؤں سے کر رہے تھے۔( وسائل تو اتنے نہیں تھے لیکن وسائل کا صحیح استعمال تھا) اور کارکنان کشمیر طبعاً ان کے ممنون تھے“۔ذکر اقبال صفحہ 188۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 289 مطبوعہ ربوہ ) سید حبیب صاحب جو ایک معروف صحافی تھے اور اخبار ”سیاست“ لاہور کے ایڈیٹر تھے اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبر بھی تھے جب حضرت مصلح موعود نے کمیٹی سے استعفیٰ دیا تو انہوں نے اپنے اخبار میں 18 مئی 1933ء کی اشاعت میں لکھا کہ میری دانست میں اپنی اعلیٰ قابلیت کے باوجود ڈاکٹر اقبال اور مولوی برکت علی صاحب دونوں اس کام کو چلا نہیں سکیں گے اور یوں دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ جس زمانے میں کشمیر کی حالت نازک تھی اس زمانے میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا، انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔اس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے (حضرت) مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو یہ تحریک بالکل ناکام رہتی اور امت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا۔میری رائے میں مرزا صاحب کی علیحدگی کمیٹی کی موت کے مترادف ہے۔مختصر یہ کہ ہمارے انتخاب کی موزونیت اب دنیا پر واضح ہو جائے گی“۔( الفضل 28 رمئی 1933ء۔بحوالہ ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعود نمبر جون جولائی 2008 صفحہ 323-324)