خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 100

خطبات مسرور جلد ہفتم 100 خطبہ جمعہ فرموده 20 فروری 2009 دوسرے مفسرین تو نعوذ باللہ حضرت لوط علیہ السلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ میری بیٹیوں کو لے جاؤ اور میرے مہمانوں کو تنگ نہ کرو۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے بالکل نئے انداز میں اس کی تفسیر پیش کی ہوئی ہے۔بہر حال یہ ایک الگ مضمون ہے۔پھر قرآن کریم کے بارے میں مولانا عبدالماجد دریا آبادی لکھتے ہیں کہ: قرآن اور علوم قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی ، اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں، ان کا اللہ تعالیٰ ) انہیں صلہ دے۔علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین و تر جمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند وممتاز مرتبہ ہے۔“ ( بحوالہ ماہنامہ خالد سید نا مصلح موعود نمبر جون، جولائی 2008ء صفحہ 325) علوم ظاہری سے پُر کئے جانے کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود لکھا ہے کہ اس پیشگوئی کا مفہوم یہ ہے کہ وہ علوم ظاہری سیکھے گا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ) کی طرف سے اسے یہ علوم سکھائے جائیں گے اور پھر آپ فرماتے ہیں کہ ” یہاں علوم ظاہری سے مراد حساب اور سائنس وغیرہ علوم نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یہاں پر کیا جائے گا کے الفاظ ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ علوم سکھائے جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے حساب اور سائنس اور جغرافیہ وغیرہ علوم نہیں سکھائے جاتے بلکہ دین اور قرآن سکھایا جاتا ہے۔پس پیشگوئی کے ان الفاظ کا کہ ” وہ علوم ظاہری سے پر کیا جائے گا یہ مفہوم ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علوم دینیہ اور قرآنیہ سکھلائے جائیں گے اور ( خدا تعالیٰ ) خود اس کا معلم ہوگا“۔الموعود۔انوار العلوم - جلد 17 صفحہ 565 اس ضمن میں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مجھے سکھایا آپ ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں مشرق کی طرف میرا منہ ہے کہ آسمان پر سے مجھے ایسی آواز آئی جیسے گھنٹی بجتی ہے یا جیسے پیتل کا کوئی کٹورا ہو اور اسے ٹھکوریں تو اس میں سے بار یک سی ٹن ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز پھیلنی اور بلند ہونی شروع ہوئی یہاں تک کہ تمام جو میں پھیل گئی ، ( تمام آسمان میں پھیل گئی )۔اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ آواز متشکل ہو کر تصویر کا چوکٹھا بن گئی۔پھر اس چوکٹھے میں حرکت پیدا ہونی شروع ہوئی اور اس میں ایک نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی تصویر نظر آنے لگی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ تصویر بلنی شروع ہوئی اور پھر یکدم اس میں سے گود کر ایک وجود میرے سامنے آ گیا اور کہنے لگا میں خدا کا فرشتہ ہوں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہیں سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں۔میں نے کہا سکھاؤ وہ سکھاتا گیا،سکھاتا گیا اور سکھاتا گیا یہاں تک کہ جب وہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک پہنچا تو کہنے لگا کہ