خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 64
64 خطبه جمعه فرموده 8 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم پہلے بھی ہم کر رہے تھے اور بہت کوششیں کی تھیں۔ان کوششوں کے باوجود وہاں کوئی جگہ نہیں تھی اور یہ نہیں مل رہا تھا۔لیکن اس روک کے بعد خود ہی اللہ تعالیٰ نے اس کے ملنے کا انتظام کروا دیا۔پہلا سیٹلائٹ جو انہوں نے بند کیا اس کی کوریج تھوڑے علاقے میں عرب کے چند ملکوں میں تھی اس سیٹلائٹ کی کوریج اس سے بہت زیادہ ہے۔مرا کو وغیرہ اور ساتھ کے ملکوں وغیرہ سے بھی پیغام آتے تھے کہ ہم ایم ٹی اے العربیہ نہیں دیکھ سکتے اور یہاں ہمیں بھی ضرورت ہے۔اس کا انتظام کریں تو اب انشاء اللہ تعالیٰ اس نئے سیٹلائٹ کے ملنے سے یہ کمی بھی پوری ہو گئی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں۔وہ سچے وعدوں والا ہے۔عارضی روکیں آتی ہیں اور آئیں گی۔دشمنوں اور حاسدوں کے وار ہوں گے لیکن اس سے کسی احمدی میں مایوسی نہیں آنی چاہئے۔ان روکوں کو دیکھ کر جیسا کہ میں نے بتا یا مومن مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے اور جھکنا چاہئے۔پس دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔اپنی نمازیں سنواریں۔فرائض پورے کریں اور پھر نوافل کی طرف توجہ دیں۔کیونکہ یہ دعائیں اور عبادتیں ہی ہیں جنہوں نے ہمارے مقاصد کے حصول میں ہماری مدد کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبانیں تر رکھیں اور زبانیں تر رکھنے سے ہی ہماری فتوحات کے دروازے کھلنے ہیں۔انشاء اللہ۔پس یہ بنیادی نکتہ ہے جو ہر احمدی کو ہر وقت اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آجکل خلافت احمدیہ کے سوسال پورے ہونے پر جب احمدی پروگرام بنا رہے ہیں، تو حاسد پہلے سے بڑھ کر نقصان پہنچانے اور وار کرنے کی کوشش کریں گے اور کر رہے ہیں۔اس حسد میں نقصان پہنچائیں گے کہ ہم سے تو خلافت چھن گئی اور یہ لوگ خلافت کے مزے لے رہے ہیں۔یہ لوگ وحدانیت پر قائم ہیں۔مخالفین یعنی دوسرے مسلمان تو کھلم کھلا اب یہ اظہار کرتے ہیں کہ ہم خلافت کے بغیر بھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور اس موضوع پر ان کے رسائل اور اخبارات بھرے پڑے ہیں۔آئے دن کوئی نہ کوئی تقریر مضمون آتا رہتا ہے۔نمونہ ایک اقتباس میں لایا تھا۔آپ کے سامنے پڑھ دیتا ہوں۔مفتی حبیب الرحمن صاحب درخواستی بیان کرتے ہیں کہ نظام خلافت اسلامیہ علی منہاج النبوت سے بڑھ کر کوئی نظام نہیں۔یہ عظیم الشان مقصد اہل حق کے ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہوئے بغیر کیونکر ممکن ہے۔اور اس وقت امت مسلمہ جس حال سے دوچار ہے، اس میں ہر طرح امت مسلمہ کو محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔تو ایسے حالات میں وہی ہونا چاہئے جس کے لئے امت مسلمہ نے عظیم قربانی دے کر پاکستان حاصل کیا اور یہ قر بانی امت مسلمہ کی اس لئے تھی کہ ہمیں آزاد ملک ملے گا جس میں ہم نظام اسلام قائم کریں گے جو کہ فراڈ اور دھو کہ کی تعبیر میں ظاہر ہوا “۔ملک تو اس لئے قائم ہوا تھا کہ اسلامی نظام قائم کریں گے لیکن سوائے یہاں پر فراڈ دھو کے کے کچھ نہیں۔خود تسلیم کر رہے ہیں۔پھر آگے کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی بقا اور خیر کا راز اتفاق، اتحاد اور نظام خلافت اسلامیہ علی منہاج النبوت میں ہے۔یہ ان کا بیان ہے۔ایک جگہ دوسرے بیان میں یہ بھی تھا کہ امام مہدی آئے گا تو اس کے بعد خلافت قائم ہوگی۔کاش یہ لوگ اپنی ضد چھوڑ دیں اور دیکھیں کہ جس امام مہدی کا انتظار کر رہے ہیں وہ تو آ گیا ہے اور اس کے ذریعہ سے اب نظام خلافت قائم بھی ہو چکا ہے۔اب کوئی نیا نظام خلافت علی منہاج نبوت قائم نہیں ہو سکتا جتنی چاہیں یہ کوششیں کریں۔پس آج احمدی جہاں اپنے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر شر سے بچاتے ہوئے ہمیں ثابت قدم رکھے۔ہمیں اس مسیح و مہدی کی جماعت سے وابستہ رکھے جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ، وہاں ان حق سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ مسیح و مہدی کے ساتھ جڑ جائیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 9 مورخہ 29 فروری تا 6 مارچ 2008 صفحہ 6-5)