خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد ششم 63 خطبه جمعه فرموده 8 فروری 2008 وَإِنِّي مُعِيْنٌ مَنْ أَرَادَ إِعَانَتَكَ أَنْتَ مِنِّى وَ سِرُّكَ سِرِى وَأَنْتَ مُرَادِيْ وَمَعِيْ أَنْتَ وَجِيَّةٌ فِي حَضْرَتِيْ اخْتَرْتُكَ لِنَفْسِيْ۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 11) ترجمہ اس کا یہ ہے کہ خوف نہ کر میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے ساتھ ساتھ چلتا ہوں، تو میرے ہاں وہ منزلت رکھتا ہے جس مخلوق میں سے کوئی نہیں جانتا۔میں نے تجھے پایا ہے جو میں نے تجھے پایا ہے۔جو تیری اہانت چاہے گا میں اسے ذلیل ورسوا کر دوں گا اور جو شخص تیری مدد کرنے کا ارادہ کرے گا اس کا میں مددگار ہوں گا۔تو میرا ہے اور تیرا راز میرا راز ہے اور تو میرا را مقصود ہے اور میرے ساتھ ہے۔تو میری درگاہ میں صاحب وجاہت ہے۔میں نے تجھے اپنے لئے برگزیدہ کر لیا۔پس جس کو خدا نے ہر خوف سے تسلی دلائی۔اپنی تائیدات کی یقین دہائی کروائی ہے۔ان کی بھی مدد کرنے کا اعلان فرمایا جو مدد کریں گے اور اہانت کرنے والوں اور روکیں ڈالنے والوں کو ذلیل ورسوا کرنے کا اعلان فرمایا۔جس کو خدا نے اپنے خاص برگزیدوں میں شمار کر لیا اس کے ماننے والوں کے لئے بھی کوئی خوف کا مقام نہیں۔عارضی تکلیفوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اُحد کی جنگ میں باوجود مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے کے اور جانی اور مالی نقصان ہونے کے دشمن فتح یاب نہیں کہلا سکا تھا۔آخر کو اللهُ أَعْلَی وَ اَجَل کا نعرہ ہی غالب آیا تھا۔پس آج بھی جب اس الله اغلی وَ اَجَل نے تائید و نصرت کا اعلان اپنے محبوب کے عاشق کے لئے کیا ہے تو پھر ہم جو اس پر ایمان لانے والے ہیں انہیں ان عارضی روکوں اور تکلیفوں پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ گزشتہ دنوں عربوں کو بھی بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔جن میں احمدی بھی ہیں اور ہمارے ہمدرد اور اسلام کا درد رکھنے والے عرب بھی ہیں۔پریشانی اس طرح ہوئی کہ بعض بڑی بڑی عرب حکومتوں نے مولویوں اور عیسائیوں کے خوف اور احمدیت کی ترقی کو دیکھتے ہوئے، اور اس کی ایک وجہ حسد کی آگ بھی ہے اس میں جلتے ہوئے ہمارے ایم ٹی اے العربیہ کی نشریات کو جو Nile سیٹ پر ( یہ سیٹلائٹ جو بعض عرب حکومتوں کی ملکیت ہے ) آتی تھیں بند کروادیا اور کیونکہ سب اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر بغیر نوٹس کے یہ چینل بند کر دیا گیا تھا اس لئے اپنے اور عربوں میں سے غیر از جماعت جتنے تھے ان کے مجھے بھی اور انتظامیہ کو بھی پیغام اور خطوط آئے کہ یہ کیا ظلم ہوا ہے کہ ایک دم بغیر اطلاع کے آپ لوگوں نے چینل بند کر دیا ہے۔انہیں تو ہم نے یہی کہا تھا کہ صبر کریں انشاء اللہ تعالیٰ جلد شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آج میرے اس خطبے سے انہیں پتہ چل گیا ہوگا کہ وجہ کیا ہوئی تھی۔ان مداہنت پسند حکومتوں نے لوگوں سے ڈر کر اور کچھ نے حسد کی وجہ سے اس چینل کو بند کرنے کی کوشش کی تھی۔کیونکہ عرب ملکوں میں بعض عیسائی پادریوں کی طرف سے بھی مخالفت ہو رہی تھی جس کا ایم ٹی اے پہ جواب جارہا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے بھی زور دیا کہ اس کو بند کیا جائے عیسائیوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔تو بہر حال ان کا معاملہ تو اب خدا کے ساتھ ہے جنہوں نے خدا کے نام پر خدا والوں سے اس زعم میں دشمنی کی ہے کہ ہم سب طاقتوں والے ہیں لیکن وہ عزیز اور سب قدرتوں کا مالک خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ مَكَرُوْا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (آل عمران : 55) یعنی انہوں نے بھی تدبیریں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی تدبیریں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔پہلے بھی مسیح اول کے خلاف بھی تدبیریں کی گئی تھیں جس پر یہ اعلان کیا اور اب بھی مسیح محمدی کے خلاف بھی تدبیریں کی جارہی ہیں لیکن اللہ تعالی تسلی دلاتا ہے۔پس یہ جو روکیں ہمارے آگے ڈالنے والے ہیں اس کا ہمیں کوئی فکر نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ کا صحیح ہے اور وہ ایسے ذریعہ سے پیغام پہنچاتا ہے کہ ایک انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔اور اللہ تعالیٰ نے کیا دیا؟ چند گھنٹے کے لئے یا ایک دن کے لئے شاید بند ہوا ہوگا۔اس کے بعد ہم نے متبادل عارضی انتظام کر لیا۔لیکن اس کوشش کے جواب میں جو انہوں نے اس کو بند کرنے کی کی تھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یورپ کی ایک سیٹلائٹ سے رابطہ کروا دیا جو