خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 65

خطبات مسرور جلد ششم 7 65 خطبه جمعه فرموده 15 فروری 2008 فرموده مورخه 15 فروری 2008 ء بمطابق 15 تبلیغ 1387 هجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَاَقِمِ الصَّلوةَ۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ۔وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ۔وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَاتَصْنَعُوْنَ (العنكبوت: 46) جیسا کہ ہر احمدی جانتا ہے کہ چودھویں صدی میں آنحضرت ﷺ کے ایک غلام صادق کا ظہور ہونا تھا جس نے ایک لمبے اندھیرے زمانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا تھا۔اس عاشق صادق اور مسیح و مہدی کا ظہور ہوا اور ہم ان خوش قسمتوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ اس مسیح و مہدی کی بیعت میں آکر اس کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔لیکن کیا ہم اس بیعت میں آنے سے وہ مقصد پورا کرنے والے بن جاتے ہیں جس کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے یا جو یہ بیعت ہم پر ذمہ داری ڈالتی ہے۔وہ ذمہ داریاں جن کو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ع سے ملنے والے، آپ کے حلقہ بیعت میں آنے والے ، آپ کی امت بنے والے پہلوں نے نبھایا تھا؟ یقین ہر احمدی کا یہ جواب ہوگا کہ ہاں اس مسیح و مہدی کی بیعت کرنے والے، آپ کی جماعت میں شامل ہونے والوں پر بھی وہی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو اولین کی ذمہ داریاں تھیں جنہیں ان لوگوں نے نبھایا اور خوب نبھایا۔جنہوں نے آیات کو بھی سنا اور اپنا تزکیہ بھی کیا اور جب تزکیہ ہوا تو انہیں وہ مقام عطا ہوا جو انہیں با خدا انسان بنا گیا۔جنہوں نے پھر آگے لاکھوں لوگوں کو پاک کیا۔اگر ہماری یہ سوچ نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام اور مقام کو سمجھنے والے نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعة : 4) یعنی نبی کریم ﷺ اپنی امت کے آخرینَ کا اپنی باطنی تو جہات کے ذریعہ اسی طرح تزکیہ فرما ئیں گے جیسا کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کا تزکیہ فرمایا کرتے تھے۔“ عربی عبارت کا اردو ترجمہ از حمامة البشری، روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 244) پس یہ باطنی تو جہیات اس عاشق صادق کے ذریعہ سے ، اس مسیح و مہدی کے ذریعہ سے ظاہر ہوئی تھیں جس نے ایک جماعت قائم کرنی تھی اور اس آخرین کی جماعت کو پہلوں سے ملانا تھا۔سوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں لاکھوں کا تزکیہ ہوا۔اور ان تزکیہ شدوں نے پھر آگے ایک جماعت بنائی اور ان کی جماعت بڑھتی چلی گئی۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جماعت کی ترقیات کا وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا خدا ہے اور اس کے وعدے پورے ہوتے ہوئے ہم نے ماضی میں بھی دیکھے، آج بھی دیکھ رہے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ دیکھیں گے۔لیکن ہر فرد جماعت کو ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کی ذات وعدوں کے پورا ہونے کی مصداق تب بنے گی جب اپنے تزکیہ کی طرف توجہ دے گا۔پس ہر احمدی کی اپنی ذات کے بارے میں بھی اور بحیثیت نگران اپنے بیوی بچوں کے بارے میں بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس تزکیہ کی طرف توجہ دے۔