خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 49

خطبات مسرور جلد ششم 49 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 تو یہ دونوں جگہ بلکہ تینوں جگہ جیسا کہ میں نے کہا جہاں قبولیت کا اعلان ہو رہا ہے ترتیب ان آیات میں ایک طرح ہے اور دعا کی ترتیب سے فرق ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا میں تزکیہ کو آخر میں رکھا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ دعا قبول ہو گئی اور وہ رسول جس کے لئے ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی تھی یہ یہ کام کرتا ہے تو اس میں تزکیہ کو آیات کی تلاوت کے بعد رکھا ہے۔اس فرق پر چند مفسرین نے روشنی ڈالی ہے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا جو مفسرین پہلے گزرے ہیں، انہوں نے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی۔مثلاً علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ: 66 تزکیہ کو تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کے درمیان اس لئے رکھا ہے تا کہ بتایا جائے کہ ان چاروں امور کو ایک بات نہ سمجھ لیا جائے بلکہ چار الگ الگ امور ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ بڑی نعمت ہے۔دوسری بات کہتے ہیں کہ تلاوت آیات کو پہلے اس لئے رکھا گیا ہے کہ تزکیہ کے لئے پہلے مخاطبین کو تیار کرنا ضروری تھا۔اس کے بعد تز کیہ کو کھا کیونکہ یہ پہلی صفت ہے جسے مومنوں کو سب سے پہلے اپنانا چاہئے کیونکہ اچھی صفات کو اپنانے سے پہلے بری عادات کو چھوڑ نا ضروری ہوتا ہے۔اس کے بعد تعلیم کو رکھا گیا کیونکہ ایمان کے بعد ہی تعلیم حاصل کی جاتی ہے۔تاہم سورۃ بقرہ کی آیت میں تعلیم کو تزکیہ سے پہلے شاید اس لئے رکھا گیا ہے تا کہ یہ بتایا جائے کہ خوبیوں کو اپنانا زیادہ اہم ہے۔( تفسیر روح المعانی سورۃ آل عمران آیت 165) تو اس طرح دو ایک اور مفسرین نے بھی اس ترتیب کے جو الفاظ ہیں ان پر مختصر بحث کی ہے۔اس لئے اس فرق کو واضح کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیادہ وسیع تفسیر کی ہے۔اس سے میں نے استفادہ کیا ہے جو بیان کروں گا۔دعائے ابراہیمی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ نبی مبعوث ہونے کے بعد اپنے پر نازل ہونے والی وحی پیش کرتا ہے پھر اپنی تائید میں ہونے والے نشانات اور معجزات کو پیش کرتا ہے۔پھر جس جس طرح احکامات نازل ہوتے جاتے ہیں وہ احکامات کی حکمتیں بیان کرتا ہے اور آخر کار اس وحی کو سننے، ان معجزات کو دیکھنے جو نبی نے دکھائے ہوتے ہیں اور ان احکامات کو سمجھنے کے بعد پھر جو جماعت تیار ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے تقدس عطا فرماتا ہے۔یہ پاک لوگوں کی جماعت ہے جو پھر اس پیغام کو آگے پہنچاتی ہے اور غلبہ حاصل کرتی ہے۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں تزکیہ کو سب سے آخر میں رکھنے کی یہ وجہ ہے۔یہ ایک ظاہری تقسیم ہے۔اس میں کمزور ایمان والوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جو تر تیب بیان فرمائی ہے اس میں ایمان میں ترقی اور روحانیت کو پہلے رکھا ہے اور علوم ظاہری والی باتیں بعد میں لی ہیں۔پس ایمان میں ترقی اور روحانیت میں ترقی اور معرفت کے پیدا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وحی پر ایمان ہو۔جب یہ ایمان بالغیب ہوگا تو پھر ایسی نظر بھی عطا ہوگی جو ان نشانات اور معجزات کو دیکھنے والی ہوگی۔اور جب یہ نشانات اور منجزات نظر آئیں گے اور تزکیہ نفس میں ترقی ہوگی تو پھر اس ترقی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات اپنانے کی کوشش ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی صفات اپنانے سے ایمان میں پھر مزید ترقی پیدا ہو گی۔تمام نفسانی کدورتیں صاف ہو جائیں گی۔تمام آلائشوں سے دل پاک ہو جائے گا۔پس کتاب اور حکمت پر تزکیہ کے تقدم کی یہ وجہ ہے، کیونکہ کتاب پڑھنا، اسے سمجھنے کی کوشش کرنا، اس میں سے حکمتیں تلاش کرنا یہ ظاہری علم کی چیزیں