خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 48

خطبات مسرور جلد ششم 5 46 48 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 فرموده مورخہ یکم فروری 2008 ء بمطابق یکم تبلیغ 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايتكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ۔إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 130) كَمَا اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ أَيْسَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ((البقرة : 152) یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں پہلی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے جس کا مضمون گزشتہ چند خطبوں سے چل رہا ہے اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ ہم نے تم میں وہ رسول بھیج دیا جو اس دعا کی قبولیت کا نشان ہے کہ وہ رسول حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے مبعوث ہوا جس نے دنیا میں ایک ع انقلاب پیدا کرنا تھا اور کیا۔اس دعا میں مانگی گئی چاروں باتوں کا میں گزشتہ خطبوں میں کچھ حد تک بیان کر چکا ہوں۔یہ مضمون شروع کرتے وقت میں نے چند جمعے پہلے یہ دونوں آیات پڑھی تھیں اور مختصر اذ کر کیا تھا کہ اس دعا کے مانگنے کے الفاظ میں اور خدا تعالیٰ کے قبولیت کے اعلان کے الفاظ میں ترتیب کا کچھ فرق ہے۔اس میں ایک حکمت ہے اور حکیم خدا کا کوئی کام بھی بغیر حکمت کے نہیں ہوتا، یونہی نہیں کہ الفاظ آگے پیچھے ہو گئے اور بلاوجہ ہو گئے۔ان الفاظ کا یعنی اس عظیم رسول کی ان چار خصوصیات کا جو اس اعلیٰ معیار کی تھیں کہ جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔اور جوصرف اور صرف آنحضرت اللہ کی ذات کا ہی خاصہ تھیں۔( جیسا کہ میں نے اس مضمون کی ابتدا میں کہا تھا کہ اس فرق کو بھی میں بعد میں کچھ بیان کروں گا کہ کیوں یہ فرق ہے ؟ تو اس وقت میں وہی کچھ بیان کرنے لگا ہوں۔) قرآن کریم میں دو اور جگہ ( دوسری جگہ پر ) بھی یہ بیان ہوا ہے، ایک سورۃ آل عمران میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ۔وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ ( سورة آل عمران : 165) یعنی اللہ نے مومنوں پر احسان کیا جب اس نے ان کے اندر انہیں میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے۔اور انہیں پاک کرتا ہے۔اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔دوسری جگہ سورۃ جمعہ میں ذکر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الَّا مِّيِّنَ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ ايته وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الـ مُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ۔وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينِ (الجمعة: 3) وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہیں میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔