خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 50
50 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہیں اور یہ باتیں یعنی کتاب اور حکمت کو آخر پر رکھ کر یہ اشارہ فرمایا کہ ایک انسان کی زندگی کا اصل مقصود نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ وغیرہ اور احکامات کی حکمتیں نہیں ہیں بلکہ اصل مقصود تزکیہ نفس ہے اور ہونا چاہئے۔اگر ظاہری نمازیں کوئی لمبی لمبی پڑھتا ہے اور نفس کی اصلاح نہیں۔یا اگر زکوۃ دیتا ہے اور ناجائز کمائی کر رہا ہے۔یا اگر حج کیا ہے اور دل میں یہ ہے کہ دوسروں کو پتہ لگے کہ میں حاجی ہوں یا اس لئے کہ کاروبار زیادہ چمکے۔کئی کاروباری لوگ اس لئے بھی حج پر جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا ہوا ہے کہ: ” جب میں حج پر گیا تو ایک لڑکا میرے ساتھ حج کر رہا تھا۔نہ نماز میں تھیں اور نہ دعائیں پڑھ رہا تھا بلکہ کوئی گانے گنگنا رہا تھا تو میں نے پوچھا تم اس لئے حج پر آئے ہو؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ ہماری دکان ہے اور وہی کاروبار مقابلے پر ایک اور آدمی بھی کر رہا ہے اور وہ حج کر کے آیا ہے جس کی وجہ سے اس کا کاروبار زیادہ چمکا ہے تو میرے باپ نے کہا ہے کہ تم بھی جا کر حج کر آؤ۔مجھے تو پتہ نہیں حج کیا ہوتا ہے اس لئے میں آیا ہوں کہ ہمارا کاروبار چھکے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 35) تو یہ حال ہوتا ہے حاجیوں کا۔اگر اس طرح کے حج ہیں تو پھر اس کتاب کی تعلیم پر عمل بے فائدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک حاجی کا قصہ بیان فرمایا ہے کہ: اس نے کسی نیک شخص کی دعوت کی۔وہ امیر آدمی تھا جو حج کر کے آیا تھا۔جب وہ بزرگ دعوت پہ آیا تو اس کے سامنے اس نے اپنے ملازم سے کہا کہ فلاں چیز فلاں طشتری میں رکھ کے لاؤ جو میں پہلے حج پہ لے کے آیا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا کہ فلاں چیز فلاں طشتری میں لاؤ جو میں دوسرے حج پر لے کے آیا تھا۔پھر کہنے لگا کہ فلاں چیز فلاں طشتری میں لاؤ جو میں تیسرے حج پر لے کے آیا تھا۔تو اصل مقصد اس کا یہ بتانا تھا کہ میں نے حج کئے ہیں۔اس نیک بزرگ مہمان نے کہا۔تیری حالت بڑی قابل رحم ہے۔تو نے تو اس اظہار سے اپنے تینوں حج ضائع کر دیئے۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 280) پس یہ بات یادرکھنے والی ہے کہ کتاب کی کسی بھی تعلیم پر آپ جو بھی عمل کرتے ہیں اس پر عمل کا مقصد تزکیہ نفس ہے۔اس لئے تزکیہ مقدم رکھا گیا ہے اور اس عظیم رسول کے صحبت یافتوں نے اپنے دلوں کا تزکیہ کیا تعلیم تو ساتھ ساتھ اترتی رہی۔تقویٰ کے معیار بھی بڑھتے رہے۔لیکن دلوں میں پاکیزگی پہلے پیدا ہوگئی تھی۔آہستہ آہستہ ترقی تو ہوتی رہی لیکن دل صاف ہو گئے تھے۔پہلے دن سے ہی ان صحابہ کا تزکیہ ہو گیا تھا۔اس تزکیہ کی ہی وجہ تھی کہ حکم آتے ہی شراب کے مٹکے توڑے گئے تھے۔کسی نے دلیل نہیں مانگی۔حکم پر عمل کیا۔تو اصل چیز دلوں کی پاکیزگی ہے جو اس عظیم رسول نے کی۔آنحضرت ﷺ کی ذات ، آپ گا ہر عمل، آپ کا اٹھنا بیٹھنا بصیرت رکھنے والوں کے لئے ایک نشان تھا۔چنانچہ آپ کے قریبیوں میں جیسے حضرت خدیجہ ہیں ، حضرت ابو بکر ہیں ، حضرت علی ہیں۔انہوں نے وحی کے اترنے کے ساتھ ہی آپ کو قبول کر لیا تھا اور علم ومعرفت میں پھر بڑھتے چلے گئے۔انہوں نے تفصیلی تعلیم اور حکمتوں کی تلاش نہیں کی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔جب واپس آئے تو کسی نے کہا تیرے دوست نے یہ یہ دعوی کیا ہے۔وہ سید ھے آنحضرت ﷺ کے پاس گئے۔ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ دعویٰ ضرت ﷺ نے اس کی تفصیل بتانے کی کوشش کی کہ یہ تعلیم اتری ہے۔حضرت ابو بکر نے عرض کی کہ مجھے تعلیم ، حکمت اور دلیل نہیں چاہئے۔میں تو آپ کو بچپن سے جانتا ہوں۔ایساز کی انسان کوئی غلط بات نہیں کرسکتا۔( شرح العلامة الزرقانی علی المواہب اللہ نیہ جلد اول صفحہ 449 ذکر اول من آمن بالله ورسوله دارالکتب العلمیة بیروت طبع اول 1996)