خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد ششم 4 38 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2008ء بمطابق 25 صلح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: رَبَّنَا وَابْعَتْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ اینكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 130) آج اس آیت میں بیان کردہ ابراہیمی دعا کے چوتھے پہلو یا اس عظیم رسول کی چوتھی خصوصیت کا ذکر کروں گا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نزدیک آئندہ تا قیامت رہنے والے زمانے کے لئے آنے والے اس خاتم النبیین میں ہونی چاہئے اور وہ دعا یہ تھی ویر كَيْهِم “ اور وہ ان کا جو اس کے ماننے والے ہوں تزکیہ کر دے۔اب اگر دیکھا جائے تو ہر نبی جو خدا تعالیٰ دنیا میں بھیجتا رہا ہے ، اس کا کام ایسی تعلیم دینا ہی ہوتا ہے۔ایسے عمل بجا لانے کی تلقین کرنا ہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں اور جن سے ماننے والوں کا تزکیہ بھی ہو۔تو یہاں یہ کون سا خاص تزکیہ ہے؟ جیسا کہ میں پہلے خطبات میں بتا چکا ہوں کہ اس عظیم رسول پر اتر نے والی آیات بھی خاص مقام کی حامل تھیں۔آپ پر اترنے والی آیات ایسی محکم تھیں جن کا کبھی پہلے کسی شریعت میں ذکر نہیں ہوا۔آپ پر اتر نے والی شریعت ایسی الله کتابی شکل میں موجود ہے اور آج تک موجود ہے جیسی پہلے دن تھی اور یہ تعلیم جو آنحضرت ﷺ پر اتری ، ایسی پر حکمت ہے جس کے ہر حکم کی دلیل بیان کی گئی ہے، اس کی حکمت بیان کی گئی ہے۔جو ہمیں کسی دوسری شرعی کتاب میں نظر نہیں آتی۔پس اس دعا میں تزکیہ کرنے کے معیار بھی وہی مانگے گئے ہیں، یامانگے گئے تھے جو اس دعا کے پہلے تین حصوں کے لئے مانگے گئے تھے۔یعنی ایسی پر حکمت تعلیم جو اتاری گئی ہے جس کا ہر ہر لفظ ایک آیت اور نشان ہے اس کے ذریعہ سے جب تزکیہ ہوتو وہ بھی ایسے اعلیٰ معیار کا ہو جس کا کوئی پہلی تعلیم مقابلہ نہ کر سکے۔کیونکہ اس تعلیم کے ذریعے تزکیہ کا سامان تا قیامت رہنا ہے۔تا قیامت اس کے ذریعہ سے تزکیہ ہوتے رہنا ہے اس لئے ہر زمانے کی برائیوں سے پاک کرنے کا سامان اس تعلیم میں موجود ہو۔اور اللہ تعالیٰ نے دعا کے اس حصے کو بھی قبول فرمایا اور قبولیت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا وَيُزَكِّيهِمْ کرده بی جو مبعوث ہوا وہ تمہیں پاک کرتا ہے۔جب ایسی عظیم آیات سے بھری ہوئی پر حکمت تعلیم مل گئی جس نے نہ سابقہ، نہ آئندہ تا قیامت آنے والے کسی معاملے کو بھی نہیں چھوڑا تو تزکیہ والا حصہ کس طرح خالی رہ سکتا تھا۔پس آنحضرت ﷺ اب تا قیامت پیدا ہونے والے ہر شخص کے لئے مزگی ہیں اور اب کوئی شخص حقیقی تزکیہ حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ آپ کے دامن کو پکڑتے ہوئے آپ کی لائی ہوئی تعلیم پر ایمان نہیں لاتا۔