خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 39

خطبات مسرور جلد ششم 39 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 تزکیہ سے متعلق چند باتیں بیان کرنے سے پہلے اس کے لغوی معنی بتا دیتا ہوں تا کہ اس کی وسعت کا اندازہ ہو سکے۔رشی کے ایک معنی ہیں بڑھایا اور نشو ونما کی۔دوسرے معنی ہیں تطہیر کرنے یا پاک کرنے کے۔اور پھر یہ بات جو میں نے پہلے بیان کی تھی کہ بڑھانا یا نشو نما پانا۔یہ بھی دوطرح کا ہے۔ایک ذات میں بڑھنا اور بڑا ہونا۔دوسرے سامان اور تعداد میں بڑھنا۔اور پھر تطہیر بھی دو طرح کی ہے۔ایک ظاہری پاکیزگی اور طہارت ہے۔اور دوسرے اندرونی پاکیزگی اور طہارت ہے۔پس اس لحاظ سے اس لفظ کی حضرت مصلح موعودؓ نے جو جامع تعریف کی ہے وہ یہ ہے کہ وہ انہیں پاک کرے گا۔نہ صرف دماغوں کو پاک کرے گا بلکہ حکمت سکھا کر دلوں کو بھی پاک کرے گا اور پھر اس تطہیر کی وجہ سے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ ماننے والے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی صفات میں جذب کر لیں گے۔عام انسان تو نظر آئیں گے لیکن اس طرح کے عام انسان نہیں ہوں گے بلکہ خدا نمائی کا آئینہ دکھائی دیں گے۔یعنی ہر دیکھنے والا ان سے فیض پانے والا ہو گا۔ان کے اندر سے خدائی صفات ظاہر ہورہی ہوں گی۔ان کو دیکھ کر دیکھنے والے یہ سمجھ جائیں گے کہ یہ اللہ والے لوگ ہیں اور ان سے ملنے والے بھی پاک اور اللہ کے خالص بندے ہیں۔پس یہ بات ہمارا بھی مدعا اور مقصود ہونی چاہئے اور اس کے لئے ہماری کوشش بھی جاری رہنی چاہئے تبھی ہم اس مزگی حقیقی کی لائی ہوئی تعلیم سے حقیقی رنگ میں فیضیاب ہو سکتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں تزکیہ اور تطہیر کا یہ رنگ جو ہمیں آپ کی تعلیم اور قوت قدسی کی وجہ سے صحابہ میں چڑھا ہوا نظر آتا ہے وہ بھی ایک خاص نشان ہے اور اس زمانے کے عرب معاشرے میں یہ عظیم انقلاب اس عظیم نبی کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسان سے با اخلاق انسان بنایا یعنی بچے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الہی رنگ سے رنگین کیا“۔( تبلیغ رسالت جلد نمبر 6 صفحه 9) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورے سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا مر چکی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء ﷺ کو بھیج کر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَمَوْتِهَا (الحديد : 18 ) یعنی یہ بات سن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے۔پھر اس کے مطابق آنحضرت ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے وائدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلہ : 23 ) یعنی ان کو روح القدس کے ساتھ مدددی۔اور روح القدس کی مدد یہ ہے کہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور روحانی موت سے نجات بخشا ہے اور پاکیزہ قو تیں اور پاکیزہ حواس اور پاک علم عطا فرماتا ہے اور علوم یقینیہ اور براہین قطعیہ سے خدا تعالیٰ کے مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے“۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 194 تا 195) پس یہ ہے اس مزکی کی قوت قدسی اور تعلیم کا اثر کہ وہی لوگ جو وحشی تھے جن کے دل کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوئے تھے جو شراب، نشہ، جو ا، زنا جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔جو اپنے باپوں کی بیویوں کو بھی ورثے میں بانٹا کرتے تھے، جو ذرا ذراسی بات پر بھڑک جاتے تھے اور قتل و غارت کا بازارگرم ہو جا تا تھا اور پھر یہ سلسلہ سالوں تک چلتا تھا۔لیکن جب اسلام کی آغوش میں آئے تو یہی قربانیاں لینے والے لوگ قربانیاں دینے والے بن گئے۔وہی جو