خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 37
خطبات مسرور جلد ششم 37 خطبه جمعه فرموده 18 جنوری 2008 پس استغفار ایسی چیزوں سے بچنے کے لئے بہت ضروری ہے۔پھر حکمت کے معنی عقل اور دانائی کے بھی ہیں۔اس کتاب نے جو عظیم رسول ﷺ پر اتری بڑے پر حکمت احکامات اتارے ہیں۔ہر حکم کی دلیل اتاری ہے جو ہر موقع ومحل کے لحاظ سے ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی مثال دے آیا ہوں قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر کوئی مجرم ہے تو اس کو سزا دو۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصے میں آکر مغلوب الغضب ہو کر سزا نہ دو۔اگر معاف کرنے سے اصلاح ہو سکتی ہے تو معاف کرنے میں حکمت ہے۔لیکن اگر عادی چور کو معاف کر دیا جائے تو معاشرے میں فساد پیدا کرنے کا موجب ہوں گے۔اسی طرح اگر قاتل کو معاف کرو گے تو اور قتل پھیلائے گا۔وہاں پھر سزا ضروری ہو جاتی ہے۔غرض کہ قرآن کریم کا کوئی بھی حکم لے لیں اس میں حکمت ہے۔ان احکامات کی بڑی لمبی تفصیل ہے۔اگر مومن ان احکامات کو سامنے رکھے اور ان کی حکمت پر غور کرے تو جہاں ہر ایک کی اپنی عقل اور دانائی میں اضافہ ہوتا ہے وہاں معاشرے میں بھی علم و حکمت پھیلنے سے محبت اور پیار کو رواج ملتا ہے۔زیادہ دماغ روشن ہوتے ہیں۔پس ایک مومن کی یہی کوشش ہونی چاہئے کہ قرآن کریم سے یہ حکمت کے موتی تلاش کرے اور اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم ہے جیسے کہ فرماتا ہے وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ۔إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ( الاحزاب : 35)۔اور یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت باریک بین اور باخبر ہے۔ان باتوں کو ، قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان کو یاد کرنے کا حکم ہے۔یہ آیات اور حکمت کی باتیں قرآن کریم میں جتنی بھی ہیں جن کی ہم اپنے گھروں میں تلاوت کرتے ہیں۔قرآن کریم کاڑھے جاتے ہیں بڑے اہتمام سے رکھے بھی جاتے ہیں۔تو تلاوت کی جائے تو تلاوت کا ثواب تو ہے لیکن اس کتاب کا حقیقی مقصد تب پورا ہوتا ہے۔ان آیات کی تلاوت کرنے کا فائدہ تب ہو گا جب ان احکامات پر عمل بھی ہوگا اور اسی طرح اسوہ رسول مہ بھی ہمارے سامنے ہوگا اور یہ آیات اور حکمت کے موتی اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ہم کوشش کریں گے۔اللہ باریک بین اور باخبر ہے ، یہ جو آخر میں فرمایا اور یہ کہہ کر ہمیں اس طرف توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ جو ہمارے ظاہر و باطن سے باخبر ہے اسے کبھی دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی بھی خبر رکھتا ہے اور ہر برائی کی بھی۔پس اس عظیم رسول کی اس عظیم تعلیم کو جب تک اپنے پر لاگو کر کے ہم اپنی زندگیاں اس کے مطابق ہم ڈھالنے کی کوشش نہیں کریں گے حقیقی مومن کہلانے والے نہیں بن سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر حکمت تعلیم کو مجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شماره 6 مورخہ 8 تا 14 فروری 2008 صفحہ 8-5)