خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 36
36 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم یہ نمازیں تمہاری حفاظت کریں گی اور پھر اس مقصد کو حاصل کرنے والے بنو گے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” نماز بھی گناہوں سے بچنے کا ایک آلہ ہے۔نماز کی یہ صفت ہے کہ انسان کو گناہ اور بدکاری سے ہٹا دیتی ہے۔سوتم ویسی نماز کی تلاش کرو۔اس فقرے پر غور کریں اور اپنی نماز کو ایسی بنانے کی کوشش کرو۔نماز نعمتوں کی جان ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فیض اسی نماز کے ذریعہ سے آتے ہیں۔سواس کو سنوار کر ادا کرو تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کے وارث بنو “۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 103 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس یہ جو فرمایا کہ تم ایسی نماز تلاش کرو، اس کا یہی مطلب ہے کہ جب تک نیکیاں اچھی طرح دل میں راسخ نہیں ہو جاتیں اس وقت تک یہ خیال کرتے رہو کہ نماز کی ادائیگی میں کہیں کمی ہے۔جب تک اللہ کی رضا اصل مقصود نہیں بن جاتی اُس وقت تک یہ سمجھتے رہو کہ ہماری نمازوں میں کمی ہے۔دعا ئیں اور نماز میں صرف اسی وقت نہ ہوں جب اپنی ضرورتوں کے لئے بے چین ہو رہے ہو اور جب اس سوچ کے ساتھ ہم عبادتیں کر رہے ہوں گے تبھی اللہ تعالی کی نعمتوں کے وارث بھی بن رہے ہوں گے۔ورنہ تو اس حکم میں کوئی حکمت نظر نہیں آتی۔پھر قرآن کریم میں ایک پر حکمت حکم یہ ہے کہ جھوٹ نہ بولو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الرُّورِ (الحج:31) پس بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بُت بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بُت پرستی کے ساتھ ملایا اور اسی سے نسبت دی جیسے ایک بُت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بُت کے ذریعہ سے نجات ہو جاوے گی۔کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بُت پرست ہوتے ہو ، اس نجاست کو چھوڑ دو تو کہتے ہیں کیونکر چھوڑ دیں۔اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہوگی کہ جھوٹ پر اپنامدار سمجھتے ہیں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔یقیناً یا درکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں مگر میں کیونکر اس کو باور کروں۔مجھ پر سات مقدمات ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزادے؟ اگر ایسا ہو تو دنیا میں کوئی سچ بولنے کی جرات نہ کرے۔اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاداٹھ جاوے۔راستباز تو زندہ ہی مرجاویں۔اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں۔یہ غور سے سننے والی چیز ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی “۔سزا اس وجہ سے نہیں کہ سچ بولا ہے وہ سزا ان کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے۔بہت ساری چھپی ہوئی برائیاں اور بدیاں جو ہیں ان کی وجہ سے سزا ہوتی ہے اور کسی اور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے پاس تو ان کی بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پا لیتے ہیں۔“ الحکم جلد 10 نمبر 17 مورخہ 17 مئی 1906 صفحہ 5،4)