خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 35
خطبات مسرور جلد ششم 35 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 2008 جب بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کوئی نئی دریافت کرتے ہیں تو پھر مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔بہت سارے سائنسدان بھی مزید تلاش کر رہے ہیں۔بلکہ بعض تو ابھی بھی ایسے ہیں۔ایک طبقہ ایسا بھی ہے اس بات کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بگ بینگ ہوا تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس طرح ہی ہوا، ہمیں تو ایمان بالغیب پر بھی ایمان ہے، قرآن کریم نے ثابت کیا ہے اور سائنس دان اس کو ثابت کر رہے ہیں کہ زمین و آسمان کس طرح وجود میں آئے اور پھر اس کی وسعت بھی ہورہی ہے، ایک طرف چل رہے ہیں۔تو بہر حال کا ئنات کی اس وسعت پذیری کا جو تصور تھا،سوسال پہلے کے انسان کو نہیں تھا۔پس یہ ہے اس کتاب کی خوبصورتی کہ ہرنئی دریافت جو آج کا تعلیم یافتہ انسان کرتا ہے خدا تعالیٰ کی اس آخری کتاب میں پہلے سے اس کا تصور موجود ہے بلکہ وضاحت موجود ہے۔اب یہ انسان کی بنائی ہوئی کتابیں اس کا مقابلہ کیا کر سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ چیلنج ہے کہ نہ تو تم اس جیسی کتاب لا سکتے ہو، نہ اس جیسی ایک آیت بنا سکتے ہو۔پس یہ وہ آخری کتاب ہے جو اس عظیم رسول ﷺ پر اتری جس کا زمانہ قیامت تک ہے۔اور اگر مسلمان سائنسدان ہوں بلکہ احمدی مسلمان تو دریافت کے بعد کسی چیز کو اس پر منطبق نہیں کریں گے بلکہ اپنی تحقیق کی بنیاد ہر ایک احمدی سائنسدان قرآن کریم کے دیئے ہوئے علم پر رکھے گا اور رکھتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب بھی اپنی تحقیق کی اسی پر بنیاد رکھا کرتے تھے۔بہر حال کہنے کا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم نے ایسے ایسے علم و حکمت کے موتی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں جو رہتی دنیا تک نئے نئے انکشافات تحقیق کرنے والے انسان پر کرتے رہیں گے۔پس یہ ایسا عظیم اور پر حکمت کلام ہے جس کا کوئی دوسری شرعی کتاب مقابلہ نہیں کر سکتی۔پھر اسی کتاب میں شرعی احکامات کی حکمت ہے۔شرعی احکامات کی حکمت کا ایک یہ مطلب بھی ہے مثلاً نماز پڑھنے کا حکم ہے تو بیان فرمایا ہے کہ تم نماز سے کیا کیا فائدے اٹھاتے ہو۔فرماتا ہے اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَأَقِمِ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ۔وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ۔وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَاتَصْنَعُونَ (العنكبوت: 46) تو کتاب میں جو تیری طرف وحی کیا جاتا ہے پڑھ کر سنا اور نماز کو قائم کر۔یقینا نماز بے حیائی اور نا پسندیدہ بات سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر یقینا سب (ذکروں) سے بڑا ہے۔اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔یہ حکم صرف آنحضرت مے کے لئے نہیں تھا بلکہ امت کے لئے تھا، آنحضرت مہ کے خاص طور پر ماننے والوں کے لئے تھا۔آپ تو پہلے ہی اس مقام تک پہنچے ہوئے تھے۔آپ کو وہ مقام ملا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ سے یہ اعلان کروایا کہ یہ اعلان کر دو کہ میری نمازیں، میری قربانیاں اور میری زندگی اور میری موت سب خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔آپ تو وہ مقام حاصل کر چکے تھے۔یہ حکم تو اس بات سے بہت پیچھے ہے۔پس یہ تعلیم تھی جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کو دی تا کہ اللہ تعالیٰ سے مومنوں کا تعلق جوڑنے کے لئے انہیں راستے بتائے جائیں۔آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ یہ پر حکمت تعلیم مومنوں کو دو کہ دنیا کے ہر فساد کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ نا ضروری ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے عبادات کی ضرورت ہے اور عبادتوں کے معیار اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب اپنی نمازوں کی حفاظت کرو گے اور جب نمازوں کی حفاظت کرو گے تو پھر یہ تمہیں ہر قسم کی برائیوں سے روکے گی اور تمہاری