خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 488

خطبات مسرور جلد ششم 488 خطبہ جمعہ فرموده 28 نومبر 2008 یہ سب کچھ حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ کیا ان جذبات کے اظہار کے بعد بھی دوسرے مسلمانوں کو شک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور بھیجے ہوئے نہیں ہیں؟ جماعت کی بڑی مسجد شہر کے مرکز میں ہے اور آتے جاتے لوگ احمدیوں کی گرمجوشی اور خوشی کو دیکھ رہے ہیں، خلافت سے محبت کا اظہار ہو رہا ہے اور یہ صرف اور صرف اس لئے ہے کہ یہ خلافت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے وہ رتی ہے جس کو پکڑ کے ہم نے آگے بڑھتے چلے جانا ہے اور اپنی منزل مقصود تک پہنچنا ہے۔اور ہماری منزل مقصود کیا ہے؟ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔مرتے دم تک وہ کام کئے جانا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو آسان بنانے والے ہوں۔وہ کام کرتے چلے جانا ہے جو اللہ کے رسول ہے کی کامل اطاعت کا حامل بنانے والے ہیں۔وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق ، زمانے کے امام اور مسیح موعود اور مہدی موعود ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔پس جس جذ بہ کا اظہار میں نے دیکھا کہ کس طرح یہاں کے احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کی وجہ سے آپ کے نظام خلافت سے اخلاص و وفا کا تعلق رکھتے ہیں اس کو قائم رکھنا ہر احمدی کا فرض ہے اور اس کو اسی صورت میں قائم رکھا جا سکتا ہے جب ہم اس بنیادی مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنے والے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہماری زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔آنحضرت ﷺ کی پیروی اور اطاعت ہماری زندگیوں کا نصب العین ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر وہ معیار حاصل کرنا جن کی آپ علیہ السلام نے ہم سے توقع کی ہے، ہمارا ہدف یا ٹارگٹ ہونا چاہئے۔ورنہ اگر یہ نہیں تو خلافت کے متعلق ترانے پڑھنا اورنظمیں پڑھنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔لوگ دنیاوی لیڈروں سے بھی جذباتی تعلق اور عقیدت رکھتے ہیں۔دنیاوی مقاصد کے لئے بھی قربانیاں دیتے ہیں۔لیکن کتنے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں۔جو لوگ بظاہر یہ قربانیاں دیتے نظر آتے ہیں، یہ سب نام نہاد قربانیاں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیم کے خلاف ہیں اور ان علماء اور لیڈروں کے پیچھے چل کر کرتے ہیں جو خود کسی ایسے رہنما کو چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہو اور وہ اس زمانے میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور ان کے علاوہ کوئی نہیں۔پس حقیقی قربانی کا شعور اور مقاصد کے حصول کے لئے راہیں متعین کرنا صرف احمدی کے ہی نصیب میں ہے اور اس کے علاوہ ہر احمدی کو اس تعلیم کو سمجھتے ہوئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے قرآن اور سنت کی روشنی میں پیش فرمائی ، اپنانے اور اس پر قائم رہنے کی کوشش کرنی چاہئے تبھی ہم بچے اور حقیقی احمدی کہلانے کے قابل ہوں گے۔