خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 487

خطبات مسرور جلد ششم 48 487 خطبه جمعه فرمودہ 28 نومبر 2008 فرمودہ مورخہ 28 نومبر 2008ء بمطابق 28 رنبوت 1387 ہجری شمسی بمقام بیت القدوس کالی کٹ کیرالہ (انڈیا) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ہندوستان کے اس علاقے میں بھی آنے کی توفیق دی۔2005ء میں جب میں قادیان آیا تھا اُس وقت بھی کیرالہ کے بعض مخلصین کا اصرار تھا کہ کیرالہ بھی ضرور آئیں لیکن حالات ایسے تھے کہ اس وقت فوری طور پر پروگرام نہیں بن سکتا تھا۔میں نے اس وقت ان سے کہا تھا کہ آئندہ انشاء اللہ آنے کی کوشش کریں گے۔واللہ تعالیٰ نے آج محض اپنے فضل سے اس بات کو پورا کرنے کی توفیق دی۔یہ بالکل حقیقت ہے کہ جب تک انسان خود کسی چیز کا مشاہدہ نہ کر لے اس کے بارہ میں جو بھی معلومات ہوں صحیح طرح ان کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔میں اس بات پر اللہ تعالیٰ کا اور بھی زیادہ شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں آ کر آپ لوگوں سے ملنے اور آپ لوگوں کے اخلاص و وفا کو دیکھنے کا موقع عطا فرمایا۔گو اس صوبہ کے، اس علاقہ کے جتنے بھی لوگوں سے میں قادیان یا لندن میں ملا ہوں انہیں اخلاص و وفا سے پُر ہی پایا ہے لیکن یہاں آ کر جماعت کو دیکھ کر اور ہر مرد عورت، بچے، بوڑھے ، جوان کو دیکھ کر اور ان کے اخلاص و وفا کے معیار کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پر فضلوں کا جو اندازہ ہوا ہے وہ آپ لوگوں سے ملنے کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی کہہ رہا تھا کہ ان میں انڈو نیشین احمدیوں کی طرح کا ڈسپلن اور اخلاص ہے۔کوئی کہہ رہا تھا کہ افریقنوں کی طرح کا اخلاص ہے ، گو کہ افریقنوں کے اخلاص کے اظہار میں جوش بھی بہت نمایاں ہوتا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے احمدیوں کا اخلاص و وفا نا قابل مثال ہے گو کہ اظہار کے طریقے مختلف ہیں اور ہندوستان کے اس حصہ کے احمدیوں کے اخلاص و وفا کے اظہار کا بھی اپنا ایک طریق ہے۔یہ حصہ جو قادیان سے ہزاروں میل دور ہے، اس حصہ میں رہنے والے احمدیوں میں سے شاید بڑی تعداد ایسی ہو جنہوں نے براہ راست خلیفہ وقت سے پہلی مرتبہ ملاقات کی ہو۔لیکن بوڑھوں، جوانوں، بچوں کی آنکھوں میں پہچان اور جذبات کا ایک خاموش اظہار کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعد جاری کردہ نظام خلافت سے محبت و وفا کے جذبے کو ختم کرنے میں روک بن سکے، اسے میں نے دیکھا ہے۔