خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 489

خطبات مسرور جلد ششم 489 خطبہ جمعہ فرموده 28 نومبر 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ بچے اور پاک اخلاق راستبازوں کا معجزہ ہے جن میں کوئی غیر شریک نہیں۔کیونکہ وہ جو خدا میں محو نہیں ہوتے وہ اوپر سے قوت نہیں پاتے۔اس لئے ان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ پاک اخلاق حاصل کر سکیں۔سو تم اپنے خدا سے صاف ربط پیدا کرو۔ٹھٹھا، ہنسی، کینه وری، گندہ زبانی، لالچ، جھوٹ ، بدکاری، بدنظری، بد خیالی، دنیا پرستی، تکبر، غرور، خود پسندی ، شرارت، کج بحثی ، سب چھوڑ دو۔پھر یہ سب کچھ تمہیں آسمان سے ملے گا“۔یعنی راستبازوں کا معجزہ آسمان سے ملے گا۔’ جب تک وہ طاقت بالا جو تمہیں اوپر کی طرف کھینچ کر لے جائے ،تمہارے شامل حال نہ ہو اور روح القدس جو زندگی بخشتا ہے تم میں داخل نہ ہو تم بہت ہی کمزور اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہو۔اس حالت میں نہ تو تم کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہو نہ اقبال اور دولتمندی کی حالت میں کبر اور غرور سے بچ سکتے ہو۔آپ نے فرمایا: " تم ابْنَاءُ السَّمَاءِ بنونہ أَبْنَاءَ الْاَرْضِ۔اور روشنی کے وارث بنو نہ کہ تاریکی کے عاشق تائم شیطان کی گزر گاہوں سے امن میں آجاؤ“۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 45) پس یہ وہ اعلیٰ معیار ہے، وہ ٹارگٹ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دیا ہے۔انسان کمزور واقعہ ہوا ہے، زندگی میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اس لئے اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ایک احمدی کو مسلسل کوشش اور جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے۔اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد کے لئے اور ان اعلیٰ اخلاق کے حصول کے لئے طریقہ بھی بتا دیا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ سے صاف ربط پیدا کرنا۔ایک خالص تعلق پیدا کرنا۔اور وہ کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ وہ اسی صورت میں پیدا ہو گا جب ہم اپنے مقصد پیدائش کو ہمیشہ سامنے رکھنے والے ہوں گے اور وہ مقصد پیدائش خدا تعالیٰ نے ہمیں خود بتا دیا اور فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا مقصد ہے۔اگر اس مقصد کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہو کر حاصل کرنے کی کوشش ہم کرتے رہیں گے تو اُن اعمال کے نہ کرنے کی طرف بھی توجہ رہے گی جن کی نشاندہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے۔اور ان نیک اعمال بجالانے کی طرف بھی توجہ رہے گی جن کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ہم معاشرے کے حقوق ادا کرنے والا بنانے والے ہوں گے اور پھر یہ اعمال ہمیں مزید اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنائیں گے۔اور پھر خلافت کی نعمت کا بھی انہی لوگوں سے وعدہ ہے جو اعمال صالحہ بجالانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شرک سے بکلی پاک اور اس کے عبادت گزار ہیں۔