خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 486
خطبات مسرور جلد ششم 486 خطبه جمعه فرموده 21 نومبر 2008 تعالیٰ حاسدوں اور شریروں کے شر سے ہر وقت بچائے کیونکہ ان لوگوں کی نظر تو ہر وقت جماعت پر رہتی ہے۔اور جو وہاں قادیان میں رہنے والے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرور سے محفوظ رکھے۔قادیان کے علاوہ انڈیا کی بعض دُور دراز کی جماعتوں کی خواہش تھی کہ ان کی جماعتوں میں بھی دورہ کیا جائے جو قادیان نہیں آ سکتے۔ہندوستان ایک بڑا وسیع ملک ہے اور غریب لوگ ہیں اس لئے نہیں آ سکتے۔تو انشاء اللہ تعالیٰ بعض دوسرے شہروں میں بھی جانے کا پروگرام ہے۔اللہ تعالیٰ ان جگہوں کے پروگرام بھی ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے اور میرا یہ دورہ بے شمار برکات کا حامل ہو اور ان کو سمیٹنے والا ہو اور دشمن کا ہر حربہ اور چال ناکام و نامراد ہوا ور ہم جماعت کی ترقی ہمیشہ دیکھتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری پردہ پوشی فرمائے اور کبھی ہم اس کے فضلوں اور رحمتوں سے محروم نہ رہیں۔اس کے علاوہ ابھی نمازوں کے بعد دو جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو ہمارے درویش بھائی مکرم بشیر احمد مہار کا ہے جنہوں نے قادیان میں اپنی درویشی کی زندگی گزاری۔13 نومبر کو ان کی وفات ہوئی تھی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ قادیان کے ابتدائی درویشوں میں سے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ساری زندگی بڑی درویشی کی حالت میں بسر کی ہے۔باوجود اس کے کہ ان کو دو تین دفعہ ایسے موقعے میسر آئے کہ پاکستان جا سکتے تھے وہاں ان کا خاندان تھا ان کی جائیداد تھی، زمینیں تھیں لیکن انہوں نے کہا نہیں اب میں قادیان میں ہی رہوں گا۔یہیں میرا مرنا اور دفن ہونا ہے۔بڑے نیک، سادہ مزاج ، نمازوں کے پابند، تہجد گزار اور دعا گو انسان تھے۔بڑے خاموش طبع تھے۔خلافت کے ساتھ بھی بڑا والہانہ لگاؤ تھا۔ہر تحریک پہ لبیک کہنے والے تھے۔ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔موصی تھے۔ان کی تدفین و ہیں قطعہ خاص درویشان میں ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیشہ اپنے پیار کی نظر ان پر ڈالے۔دوسرا جنازہ مکرم محمد غضنفر چٹھہ صاحب کا ہے۔آپ بورے والا میں نظارت بیت المال پاکستان کی طرف سے انسپکٹر بیت المال تھے۔18 نومبر کو دورے کے دوران جب آپ ضلع وہاڑی کا دورہ کر رہے تھے امیر صاحب کی رہائش گاہ کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار آئے ، ان سے بیگ چھینے کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائز کیا اور یہ شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کی عمر 56 سال تھی۔آپ کا تعلق بھی وہاڑی سے ہی تھا۔اس لحاظ سے بھی میں اس کو جماعتی شہادت سمجھتا ہوں کہ میرا خیال ہے کہ بیگ میں بھی جماعتی سامان اور چیز میں اور کا غذات تھے اور ہو سکتا ہے رقم بھی ہو۔اس لحاظ سے ان کی شہادت جماعتی شہادت بھی کہلا سکتی ہے ،صرف ڈکیتی کی شہادت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شمارہ نمبر 50 مورخہ 12 دسمبر تا 18 دسمبر 2008ء صفحہ 5 تا صفحہ 7)