خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 366
خطبات مسرور جلد ششم 366 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو سب محبتوں پر غالب کرنا ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کا خاص قرب دلاتی ہے۔پھر اس دعا میں ٹھنڈے پانی کی مثال دی۔ایک پیاسا جس کو پانی کی تلاش ہو اور کہیں پانی میسر نہ ہو۔یہاں تک حالت پہنچ جائے کہ غشی کی کیفیت ہونے لگے۔اس وقت وہ پانی کے ایک گھونٹ کے لئے بھی اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔لیکن ایک حقیقی مومن کو آنحضرت ﷺ نے یہ دعا سکھائی کہ اس وقت جو تمہیں پانی کا ایک گھونٹ میسر آ جائے ، وہ تم جتنی بڑی نعمت سمجھتے ہو۔جو ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ تمہیں نعمت لگتا ہے، اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے زیادہ تمہارے دل میں قائم ہونی چاہئے۔آپ خود یہ دعامانگا کرتے تھے۔آپ نے یہ دعائیں مانگ کر اپنا اُسوہ ہمارے سامنے قائم فرمایا اور نہ صرف دعائیں کیں بلکہ عمل سے بھی اُسوہ قائم فرمایا۔پس ان دنوں میں دین کی سر بلندی کے لئے ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے غلبہ کے لئے ، آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لئے خالص ہو کر دعائیں مانگیں اور ساتھ ہی جب ہم اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے دعائیں مانگیں گے تو یہ باتیں ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب تر لانے والی ہوں گی۔ہمیں تقویٰ میں بڑھانے والی ہوں گی۔اگر اس رمضان میں ہم میں سے ہر ایک اس مقصد کو حاصل کر لے۔اللہ تعالیٰ کا قرب اور پیار حاصل کرلے۔تقویٰ میں ترقی کرنے والا بن جائے تو ان قریب کی آواز سننے والا بھی بن جائے گا اور اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے نظارے بھی دیکھنے والا بن جائے گا۔کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ یعنی تا کہ وہ ہدایت پا جائیں کہہ کر اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ جب نیک اعمال ہوں گے ایمان میں ترقی ہوگی ، دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوگی تو وہ مومن ہدایت یافتہ ہو جائے گا اور ہدایت یافتہ کے لئے اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ ایسے خالص مومن کی پکار کا جواب دیتا ہے۔پس اے مسیح محمدی کے غلامو! آپ کے درخت وجود کی سرسبز شاخو! اے وہ لوگو! جن کو اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے راستے دکھائے ہیں۔اے وہ لوگو! جو اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں قوم کے ظلم کی وجہ سے مظلومیت کے دن گزار رہے ہو، اور مظلوم کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بہت سنتا ہوں تمہیں خدا تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ اس رمضان کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوتے ہوئے اور ان تمام باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں گزار دو۔یہ رمضان جو خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کا پہلا رمضان ہے، خدا تعالیٰ کے حضور اپنے سجدوں اور دعاؤں سے نئے راستے متعین کرنے والا رمضان بنا دو۔اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والا رمضان بنادو۔اپنی آنکھ کے پانی سے وہ طغیانیاں پیدا کر دو جو دشمن کو اپنے تمام حربوں سمیت خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائیں۔اپنی دعاؤں میں وہ ارتعاش پیدا کرو جو خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کرتی چلی جائے کیونکہ مسیح محمدی کی کامیابی کا راز صرف اور صرف دعاؤں میں ہے۔