خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 365

365 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آپ کی ذات سے ہنسی ٹھٹھا کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا۔اور آپ کو الہا ما فرمایا کہ إِنَّا كَفَّيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِنِيْنَ کہ جو لوگ تجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں ہم ان کے لئے کافی ہیں۔ہم ہمیشہ دیکھتے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دشمنوں نے جو بھی مذاق اڑانے یا ٹھٹھا کرنے کی کوشش کی تو دشمن کا جو انجام ہوا اس کے نظارے ہم نے دیکھے بھی اور سنے بھی۔لیکن ہمیں یہ فکر ہونی چاہئے کہ ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے وعدے کے پورے ہونے کے دن کہیں آگے نہ چلے جائیں۔ہماری کمزوریاں دشمن کو استہزاء کا موقع نہ دیں۔اللہ تعالیٰ ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ہمیں اپنے جلال اور عظمت کے نظارے دکھائے۔آنحضرت ﷺ کی عظمت و عزت کو ہم جو مسیح محمدی کے غلام ہیں، ہمیں حقیقی غلاموں کا نمونہ بناتے ہوئے ہماری زندگیوں میں دنیا کے ہر شہر اور ہر گلی میں قائم ہوتا ہوا دکھائے۔ہماری کمزوریاں، ہماری کوتاہیاں ، ہماری ستیاں کبھی ہمیں خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دُور نہ کر دیں۔اللہ تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے ہمارے کمزور جسموں کو وہ طاقت عطا فرمائے جس سے ہم اس کے دین کی عظمت کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی محبت ہمارے دلوں میں اس طرح قائم فرما دے جس طرح اللہ اور اس کا رسول چاہتے ہیں اور جس کے لئے آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ۔اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمَالِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ (جامع ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر 3490) اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرے اور ایسا عمل جو تیری محبت کے حصول کا ذریعہ بنے۔اے اللہ ! میرے دل میں اپنی محبت پیدا کر دے جو میرے اپنے نفس سے زیادہ ہو، میرے مال سے زیادہ ہو، میرے اہل وعیال سے زیادہ ہو، اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔پس یہ محبت ہے جو ہمارے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنادے گی۔اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر عمل کرنے والے ہوں گے۔اللہ کرے کہ ہم اپنی نفسانی خواہشات کو خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے دبانے والے ہوں۔مال سے محبت ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادتوں اور اس کی محبت سے کبھی غافل نہ کرے۔بیوی بچوں، عزیز رشتہ داروں کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہمیں کبھی غافل نہ کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ (المنافقون: 10) یعنی تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔اور آخرین کے زمانے میں یہ زیادہ ہونا تھا۔پھر دنیا کے لالچ مال کے لالچ کے نئے نئے طریقے ایجاد ہو جانے تھے۔پس اس زمانہ میں ان چیزوں سے بچنا