خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 341

341 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمود 220 اگست 2008 نمونے کی پیروی کرنا ضروری ہے جو اپنے آپ کو عباد الرحمن کہتے ہیں۔اُن کو اللہ کے رسول کی پیروی کرنا ضروری ہے جو اس زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہو کر، خالص ہو کر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کا اعلان کرتے ہیں۔ان کے لئے اس رسول کے اُسوہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔پس اپنی اپنی انتہائی استعدادوں کے مطابق اپنی عبادتوں کے معیار ہر احمدی کو بڑھانے چاہئیں تا کہ اُس محبت کا دعوی حقیقت کا روپ دھار لے۔صرف دعوی ہی نہ رہے۔پس ان دنوں میں اپنی عبادتوں اور اپنی نمازوں کی طرف بھی توجہ دیں۔یہ جلسہ کے دن ہر شامل ہونے والے کی اس طرف توجہ پھیر نے والے ہوں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کی بھر پور کوشش کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خوب یاد رکھو اور پھر یاد رکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی ہو ، تو حید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔اُس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔فرمایا ”سنو وہ دعا جس کے لئے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن: 61) فرمایا ہے، اس کے لئے بھی کچی روح مطلوب ہے۔اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورۃ المومن آیت نمبر 61 صفحہ 59-58) پھر آپ فرماتے ہیں : ”مدار اس بات پر ہے کہ جب تک تیرے ارادے ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں ، انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا: ” میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند نہ ہو کہ تمہارا جسم، نہ تمہاری نماز بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔ظاہری نمازیں نہ ہوں بلکہ روح نماز پڑھ رہی ہو۔پس یہ ہے وہ نماز کی روح جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ نماز پڑھنا اور تو حید کا دعویٰ کرنا لا إِلهَ إِلَّا اللہ کا اعلان کرنا یہ بے مقصد ہے اور اس میں کبھی برکت نہیں پڑ سکتی جب تک دل بھی ہر قسم کے مخفی شرک سے پاک نہ ہو، جب تک انتہائی عاجزی اور تذلل نہ ہو۔اور جب یہ ہوگا تو پھر دعا ئیں بھی قبول ہوں گی کیونکہ یہی بنیادی چیز ہے جسے خدا تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کو قائم کرنے کے لئے ہمارے سامنے نمونے آنحضرت نے قائم فرما دیئے۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی کہ یہ عاجزی اور تذلیل کس قسم کا ہونا چاہئے کہ ہر قسم کے ناپاک منصوبوں