خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 342
342 خطبه جمعه فرمود 220 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم سے دل پاک ہو۔کسی قسم کا تکبر نہ ہو۔کسی قسم کی انانیت نہ ہو۔بندوں سے بھی عاجزی دکھانے والے ہو گے تو تبھی دعائیں بھی قبول ہوں گی اور نمازیں بھی حقیقی نماز میں ہوں گی۔اللہ تعالیٰ کی حقیقی تو حید کا اعلان کرنے والے کبھی یہ نہیں کر سکتے کہ اپنے مفاد کے لئے دنیا کے سہارے لے لیں۔دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے ہوں۔دوسروں سے تکبر سے بات کرنے والے ہوں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حقیقی عبادت گزار وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا بھی حق ادا کرنے والا ہے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر چلنے والا ہے۔آنحضرت ﷺ نے کیا نمونے قائم فرمائے بعض مثالیں میں دیتا ہوں۔عبادت کی مثال میں دے آیا ہوں۔ایک غریب معذور عورت آپ کو راستے میں روک لیتی ہے اور آپ انتہائی توجہ سے اس کی بات کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں فکر نہ کرومیں تمہاری بات سن کر جاؤں گا۔یہ عاجزی تھی آپ کی۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں، باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم بیعت کے لئے میرے رسول کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہو تو اصل میں وہ میرا ہاتھ ہے جو تمہارے ہاتھ کے اوپر ہے۔لیکن پھر بھی آپ کی عاجزی کا یہ حال کہ صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے جب آپ نے یہ فرمایا کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہو تو کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے اور صحابہ نے جب اس بات پر آپ سے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے عمل بھی آپ کو جنت میں نہیں لے جائیں گے؟ تو دیکھیں اللہ تعالیٰ کی خشیت، خوف اور عاجزی میں ڈوبا ہوا جواب، آپ نے فرمایا ہاں مجھے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ڈھانپے تو میں بھی جنت میں نہیں جاسکتا۔پس یہ ہے وہ عاجزی کی اعلیٰ ترین مثال، یہ ہے وہ تکبر کے خلاف جنگ کا عظیم اعلان کہ میں جس کو ہر طرح کی ضمانت دی گئی ، خدا تعالیٰ نے یہ ضمانت دی ہوئی ہے کہ جب میں تم سے بیعت لیتا ہوں تو تمہارے اوپر میرا ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو جنت میں لے کے جائے گا۔عاجزی کی مثال یہ ہے۔تو یہ مثال دے کر آپ نے ہمیں یہ فرمایا، اس طرف توجہ پھیرائی کہ میں اگر یہ بات کر رہا ہوں کہ مجھے بھی جنت میں لے جانے والا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے تو تم لوگ جو دن میں کئی مخفی شرک کر لیتے ہو تم جو تو حید کا اس قدر فہم اور ادراک نہیں رکھتے جس قدر میں رکھتا ہوں ہم جو نمازوں کے وہ معیار قائم نہیں کر سکتے جو معیار میں نے قائم کئے ہیں پھر تم کس طرح اپنی نیکیوں پر تکبر کر سکتے ہو، اپنے اعمال پر تکبر کر سکتے ہو۔پس عاجزی اختیار کرو کہ اس میں تمہاری بقا ہے۔اس میں اللہ اور اس کے رسول اسے محبت کا راز مضمر ہے۔ایک موقع پر آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اُسے عزت میں بڑھاتا ہے۔جتنی زیادہ کوئی تو اضع اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ