خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 340

خطبات مسرور جلد ششم 340 خطبه جمعه فرمود 22 اگست 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ترجمہ یوں فرمایا ہے کہ ” خدا اور اس کے سارے فرشتے اس نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایماندار و ! تم بھی اس پر درود بھیجو اور نہایت اخلاص اور محبت سے سلام کرو“۔( براہین احمد یه رحانی خزائن جلد اول صفحه 265 حاشیہ نمبر 11) پس یہ اخلاص اور محبت سے سلام اور درود ہے جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے اور قبولیت دعا کے نظارے بھی ایک مومن دیکھتا ہے۔پس ان دنوں میں جو جلسے کے دن ہیں جہاں نمازوں اور دعاؤں کی طرف ہمیں توجہ رکھنی چاہئے وہاں آنحضرت مے پر خالص ہو کر درود بھیجتے رہیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے ہماری حالتوں کو بدلے اور ہمیں اپنا خالص بندہ بنالے۔ہمیں اپنی زبانیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے والے ہوں اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں۔جن برائیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے درد کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اُن سے بچنے والے ہوں۔آنحضرت ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے عبد کامل تھے ، آپ نے اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم فرمائے جس کی کوئی مثال نہیں۔کبھی ویرانوں میں دنیا و مافیہا سے بے خبر خدا تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں۔ایک دن آپ کی ایک بیوی رات کو آپ کو بستر سے غائب پاتی ہیں تو شک کرتی ہیں کہ کہیں کسی دوسری بیوی کے گھر نہ گئے ہوں۔لیکن جب تلاش کے بعد اُس نظارے کو دیکھتی ہیں تو اپنی سوچ پر پریشان ہوتی ہیں کہ میں نے آپ سے دنیاوی سوچ کے مطابق کیا توقع رکھی تھی اور آپ کے مقام کو نہ پہچان سکی لیکن آپ تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہیں اور اس طرح گڑ گڑار ہے ہیں جس کی کوئی مثال بیان نہیں کی جاسکتی۔کوئی آپ کے اس طرح اپنے مولیٰ کے حضور عبادت کی گڑ گراہٹ کو ہنڈیا کے ابلنے کی آواز سے تشبیہ دیتا ہے، کوئی کسی اور مثال سے لیکن اس عبد کامل کی اپنے مولیٰ کے حضور عبادت کی گڑگڑاہٹ سب مثالوں سے بالا ہے۔شدید بیماری میں بھی نماز با جماعت نہیں چھوڑتے۔آخری بیماری میں انتہائی ضعف کی حالت میں مسجد میں تشریف لاتے ہیں، اپنے سامنے اپنے ماننے والوں اور مسلمانوں کی جماعت کو نماز پڑھتا دیکھ کر تبسم فرماتے ہیں کہ یہی ایک حقیقی مقصد ہے انسان کی پیدائش کا جس کو یہ مخلصین اور عبادالرحمن پورا کر رہے ہیں۔آپ فرماتے ہیں، میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہی ہے۔یہ اُسوہ ہے جو آپ نے نمازوں کی پابندی کے بارہ میں ہمارے سامنے قائم فرما دیا۔نوافل کی پابندی پر قائم فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قائم فرمایا۔یہ مقام تو ہر ایک کو حاصل نہیں ہو سکتا جو آپ کا تھا۔اُس مقام تک تو صرف وہ انسان کامل پہنچا تبھی تو خدا اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیج رہے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُوْلِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورة الاحزاب:22) كه يقيناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے، ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے۔پس اللہ کا ذکر کرنے والوں کو اس