خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 323

323 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتا ہے اور اس کا خوف دل میں رکھتے ہوئے کرتا ہے، تو پھر ہی ان برکات سے مستفید ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں رکھی ہیں۔جن کے بارے میں حدیث میں نے پڑھی کہ یہ آیات پڑھو تو اللہ تعالیٰ بخشش کے سامان پیدا فرماتا ہے۔پس صرف منہ سے الفاظ ادا کرنا کافی نہیں اگر یہ بغیر غور وفکر اور عمل کے ہوں۔پس اس غور اور اس فکر اور اس مقام کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور اس کوشش کے ساتھ انسان یہ آیات پڑھے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والا ہوگا۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اس کو اعمال میں ایک خاص لذت آتی ہے اور اس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔گناہوں سے اسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔نا پاک مجلس سے نفرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتا ہے۔ایسا ایمان اسے حضرت مسیح کی طرح صلیب پر بھی چڑھنے سے نہیں روکتا۔وہ خدا تعالیٰ کے لئے اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے حضرت ابرا ہیم کی طرح آگ میں بھی پڑ جانے سے راضی ہوتا ہے۔جب وہ اپنی رضا کورضاء الہی کے ماتحت کر دیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جو عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہے اس کا محافظ اور نگران ہو جاتا ہے اور اسے صلیب پر سے بھی زندہ اتار لیتا ہے اور آگ میں سے بھی صحیح سلامت نکال لاتا ہے۔مگر ان عجائبات کو وہی لوگ دیکھا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر پورا ایمان رکھتے ہیں“۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ایمان میں کامل کرے اور اسے بڑھاتا رہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح ادراک رکھتے ہوئے ہمیشہ نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتے ہوئے اس کی تائیدو نصرت کے نظارے دیکھتے چلے جائیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا: دوافسوسناک خبریں ہیں۔ہمارے قادیان کے دونو جوان گزشتہ دنوں وفات پاگئے تھے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ایک جامعہ احمدیہ قادیان کے طالب علم وسیم احمد تھے۔ان کی عمر 21 سال تھی جو قادیان کے قریب ایک نہر ہر چوال میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔یہ بڑا تیرنے والا لڑکا تھا اور سمندر میں نہانے کی مہارت رکھتے تھے بلکہ لوگوں کو تیرا کی سکھایا کرتے تھے۔لگتا ہے نہر میں نہاتے ہوئے کہیں چھلانگ لگائی ہے تو سرکسی چیز سے ٹکرایا ہے جس کی وجہ سے بیہوشی ہوئی ہے اور پھر پتہ نہیں لگا۔دو تین دن کے بعد لاش ملی۔اس وقت کوئی دیکھ نہیں رہا تھا۔فوری طور پر نکالا جاتا تو شاید۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی تقدیرتھی۔عزیز موصی تھے اور بڑی دُور لکش دیپ کے رہنے والے تھے۔ان کو کھلے سمندر میں نہانے کی بڑی مہارت تھی۔