خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 322

322 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ رسول کریم اسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے بھی سورۃ الحشر کی آخری آیات رات یا دن کو تلاوت کیں اور اسی دن یا رات کو فوت ہو گیا اس کے لئے جنت واجب ہوگی۔مجمع البیان فی تفسیر القرآن از علامه حسن طبرسی تفسیر سورۃ الحشر زیر آیات 21 تا 24) وہ آخری آیات یہ ہیں۔هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهُ إِلَّاهُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔هُوَا لرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (الحشر:23) اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے، وہی بے انتہا کرم کرنے والا خدا ہے اور وہی بار بار رحم کرنے والا خدا ہے۔پھر اگلی آیت میں ہے۔هُوَ اللهُ الَّذِی لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (الحشر : 24) وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ بادشاہ ہے، پاک ہے ، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے، ٹوٹے کام بنانے والا ہے اور کبریائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔پھر فرمایا هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالَّا رْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ (الحشر : 25) اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا موجد ہے اور ہر چیز کو اس کی مناسب کی صورت دینے والا ہے، اس کی بہت سی اچھی صفات ہیں، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی تسبیح کر رہا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ صرف تلاوت ہی نجات کے سامان پیدا نہیں کرے گی۔یقیناً تلاوت بھی ایک اچھا کام ہے۔اس کا حکم بھی ہے کہ قرآن کریم کی اچھے لن میں تلاوت کی جائے۔لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو عبادت انسان کا مقصد پیدائش بتایا ہے لیکن اس کے باوجود بعض لوگوں کی عبادت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی نمازیں ان پر لعنت ڈالیں گی۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ دکھاوے کی عبادتیں ہیں یا دل سے ادا نہیں کی جار ہیں۔تو صرف تلاوت ہی نجات کا ذریعہ نہیں بنے گی۔صرف یہ آیات پڑھ لینا ہی نجات کا ذریعہ نہیں بنیں گی اگر ان پر غور نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھتے ہوئے ، اس سے فیض پانے کی دعا نہ ہو، اس کے لئے کوشش نہ ہو، اپنی عبادتوں کے معیار بلند نہ ہوں، خالصتاً اس کے لئے ہو کر عبادت نہ کی جائے ، اعمال صالحہ بجالانے کی طرف توجہ نہ کی جائے۔نیکیاں جو قرآن کریم میں درج کی گئی ہے، ان پر غور کرتے ہوئے ان کو بجالانے کی طرف توجہ نہ کی جائے تب تک صرف آیتیوں کا پڑھنا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔تو پھر خالص ہو کر اس کی تسبیح کی جائے، پھر یہ نیکی کے معیار بلند کرتی ہے، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جو میں نے اقتباس پڑھا توجہ دلائی ہے۔پھر یہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بنے گی۔پس اس غائب اور حاضر کو جاننے والے خدا جو عالم الغیب والشہادہ ہے کے سامنے جب مومن جاتا ہے تو یہ سمجھ کر جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دھو کہ نہیں دیا جاسکتا۔ہر فعل جو ایک مومن کرتا ہے وہ اللہ