خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد ششم 321 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 کتاب ہے، اس لئے ہم ان کی مخالفت کی کیوں پر وا کریں۔غرض میں بار بار اس امر کی طرف ان لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کشف حقائق کے لئے قائم کیا ہے کیونکہ بڑوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہو سکتا اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعہ اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہو جیسا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لئے مامور کیا ہے۔اس لئے قرآن شریف کو کثرت سے پڑھو گر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک فلسفہ سمجھ کر۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 113۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ نیکیوں میں بڑھنے والے گروہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ کسی کو بھی اللہ کے مقابلے میں شریک نہیں ٹھہراتے۔لیکن مسیح موعود کے زمانہ کے حالات بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ الجمعہ میں فرماتا ہے کہ مخفی شرک اس زمانے کے مسلمانوں میں اس حد تک نظر آئے گا کہ باوجود مسلمان کہلانے کے عبادت کی طرف توجہ نہیں ہوگی۔تجارتیں اور دل بہلاوے کی چیزیں انہیں نمازوں کی نسبت زیادہ پرکشش نظر آ رہی ہوں گی۔بجائے نیکیوں میں بڑھنے کے وہ یہود و نصاری کی طرح اسلام اور قرآن کی تعلیم کو بھلا رہے ہوں گے۔عبادت کی طرف توجہ بھی کم ہوگی اور اعمال صالحہ کی بجا آوری کی طرف بھی توجہ کم ہو گی۔چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں مسلمانوں کی اکثریت اسی پر چلتی نظر آتی ہے۔لیکن ہمیں بھی یہ بات دعوت فکر دیتی ہے کہ ہم بھی اپنے جائزے لیتے رہیں کہ کہیں اپنے آپ کو اپنے نفس کے دھوکے میں تو نہیں ڈال رہے؟ پھر ایک نشانی یہ بتائی کہ نیکیوں میں بڑھنے والے اپنی دولت دونوں ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔لیکن پھر بھی یہ خوف رہتا ہے کہ پتہ نہیں اس معیار پر پورے اتر بھی رہے ہیں یا نہیں جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔کہیں اُس معیار سے نیچے رہ کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے تو نہیں بن رہے؟ پس یہ باتیں ایسی ہیں جو پھر آگے بار یک در باریک نیکیوں کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے حصول کے لئے نہ صرف ایک مومن کوشش کرتا ہے بلکہ ان میں بڑھنے کی بھی کوشش کرتا ہے اور جب یہ عمل ہوں گے تو تب ایک انسان اس خدا کی پناہ میں رہے گا جو ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جو قدوس ہے ، جو سلام ہے، جو امن دینے والا ہے، جو مھیمن ہے، جو عزیز ہے، جو ٹوٹے کام بنانے والا ہے، اور جو کبریائی والا ہے۔اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحشر میں کیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات کا فہم حاصل کرنا ہر مومن کا فرض ہے اور جب اس فہم کے حصول کی کوشش ہوگی تو تب ہی ایمان میں بھی مزید ترقی ہوگی۔الله ایک روایت میں آتا ہے، علامہ طبرسی نے سورۃ الحشر کی آیت کے ضمن میں یہ حدیث بیان کی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے حبیب رسول اللہ ﷺ سے الہ کے اسم اعظم کی بابت پوچھا جس پر آپ نے فرمایا سورۃ الحشر کی آخری آیات کثرت سے پڑھنے کا التزام کرو۔