خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 320

320 خطبه جمعه فرمودہ 8 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم قائم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا رعب ان پر ہوتا ہے اور اس رعب اور ڈر کی وجہ سے اور اس تعلق کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ سے ہے وہ اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات ان کو ہر وقت ہر کام سے پہلے اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہوتی ہے۔ہر وقت ان کے ذہن میں ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک ذات ہے جو ہر وقت مجھے دیکھ رہی ہے۔وہ اپنے ایمان میں بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تمام آیات پر ایمان لاتے ہیں۔قرآن کریم کی تمام پیشگوئیوں پر انہیں یقین ہوتا ہے۔قرآن کریم ایک قائم رہنے والی کتاب ہے جس نے گزشتہ صحیفوں کو بھی درست کیا ہے یا تصدیق کی ہے اور آئندہ کے لئے بھی اسلام کے زندہ ہونے کے کچھ نشان ظاہر فرمائے اور اس زمانے میں مسیح موعود و مہدی موعود کا ظہور بھی ان نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار بھی اللہ تعالیٰ کے نشانوں کا انکار ہے۔آج مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت با وجود یہ دعا پڑھنے کے، صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة : 7) کہنے کے، یہ دعا مانگنے کے خدا تعالیٰ کے فرستادہ کا انکار کر کے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور ضَالِینَ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتا کر کہ دوسروں کے معاملات کے فیصلے بھی اب اس کتاب کے مطابق ہونے ہیں مسلمانوں کو توجہ دلا دی تھی کہ تم میں بھی اس کتاب پر ایمان کو کامل کرنے کی ہر وقت فکر رہنی چاہئے۔صرف منہ سے نہیں ، صرف قرآن کریم کو زبانی عزت دے کر نہیں بلکہ جو پیشگوئیاں ہیں ان پر غور کرتے ہوئے۔جب بھی کوئی پیشگوئی اپنے وقت پر پوری ہو تو ایمان لا کر۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آج یہ ایمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر پورا ہوتا ہے۔اس کے بغیر یہ ہو نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر احسان کیا ہے جو ان کی تعلیموں کو جو قصے کے رنگ میں تھیں علمی رنگ دے دیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی شخص ان قصوں اور کہانیوں سے نجات نہیں پا سکتا جب تک وہ قرآن شریف کو نہ پڑھے کیونکہ قرآن شریف ہی کی یہ شان ہے کہ وہ إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَضْل۔وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ ( الطارق: 14-15) یعنی یقیناوہ ایک فیصلہ کن کلام ہے اور ہرگز کوئی بیہودہ کلام نہیں۔فرماتے ہیں کہ وہ میزان مهیمن، نور اور شفا اور رحمت ہے۔جو لوگ قرآن شریف کو پڑھتے اور اسے قصہ سمجھتے ہیں انہوں نے قرآن شریف نہیں پڑھا بلکہ اس کی بے حرمتی کی ہے۔ہمارے مخالف کیوں ہماری مخالفت میں اس قدر تیز ہوئے ہیں؟ صرف اسی لئے کہ ہم قرآن شریف کو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ سراسر نور ، حکمت اور معرفت ہے، دکھانا چاہتے ہیں۔اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ قرآن شریف کو ایک معمولی قصے سے بڑھ کر وقعت نہ دیں۔ہم اس کو گوارا نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم پر کھول دیا ہے کہ قرآن شریف ایک زندہ اور روشن