خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد ششم 270 (28) خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 2008 فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2008 ء بمطابق 11 روف 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ احباب جماعت کے علم میں ہے، گزشتہ دنوں میں امریکہ اور کینیڈا کے جلسوں میں شمولیت کے لئے وہاں سفر پہ گیا ہوا تھا۔جلسے کے علاوہ دوسرے پروگرامز بھی تھے، غیروں کو بھی مختلف رنگ میں اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچانے کی توفیق ملی۔اس کا مثبت ردعمل بھی اس طبقے کی طرف سے ہوا جنہوں نے یہ باتیں سنیں ، یا جن کو کسی بھی رنگ میں جماعت سے تعارف حاصل ہوا۔اسلام کے متعلق ان کے دل میں جو شبہات اور شکوک تھے وہ دُور ہوئے۔بہر حال مجموعی طور پر یہ سفر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی برکتیں سمیٹے ہوئے تھا۔اللہ تعالیٰ اپنوں اور غیروں میں اس کے جاری اور دور رس نتائج پیدا فرمائے۔یہ تمام باتیں یا اثرات جو اپنوں میں بھی اور غیروں میں بھی ہمیں سننے اور مشاہدہ کرنے کو ملے، یہ نہ تو صرف جماعت کی انتظامیہ کی اعلیٰ پلاننگ یا تعلقات کا نتیجہ تھے۔نہ ہی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جس طرح غیروں میں مضامین بیان کئے انہوں نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچی اور اسلام کے بارے میں ان کے شکوک دور ہوئے یا اس کا انہوں نے اظہار کیا۔یقینا قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام دلوں پر اثر کرتا ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی مرضی اور منشاء نہ ہو تو یہی خدا کا کلام اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان کو جو بغض اور عناد اور دشمنی پر تلے ہوئے ہوں، خسارے کے علاوہ کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔پس دلوں کا کھولنا ، ان میں اثر پیدا کرنا، یہ بھی خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اور جب وہ چاہے ایسا ماحول اور حالات پیدا کرتا ہے کہ ایک بات اثر کرتی ہے۔پس اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچے اور پھر ان لوگوں میں سے جو نیک فطرت ہیں وہ اسے قبول کریں اور پھر درجہ بدرجہ ہر ایک اس کا اثر اپنے دل پر محسوس کرے۔اور کم از کم جن کو اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچتی ہے اگر کچھ نہ کچھ ان میں نیکی ہے تو یہ ردعمل ان سے ضرور ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی دشمنی سے باز آجاتے ہیں کیونکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث فرمایا ہے تا اسلام کا خوبصورت چہرہ لوگوں کو دکھائیں۔اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھا سکتے ہیں کیونکہ اللہ