خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد ششم 268 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 لیتی ہیں، وہ بھی نہ صرف اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے علیحدہ کرتی ہیں بلکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اولا د کو غیروں کے ہاتھ میں دے دیتی ہیں۔نہ چاہتے ہوئے میں نے اس لئے کہا ہے کہ بعض لڑکیاں نہیں چاہتیں کہ احمدیت سے تعلق توڑیں لیکن شادی کے بعد ایسے حالات ہوتے ہیں کہ ان کے لئے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ ان کی اولاد دوسروں کی گود میں پلے بڑھے۔تو یہ مسئلہ چونکہ بڑھ رہا ہے اس لئے اس کا ذکر کرنا بھی میں نے ضروری سمجھا۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ اپنے اس عہد کی طرف توجہ کرنی چاہئے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔جہاں یہ احساس پیدا ہو کہ میرے کسی فعل کی وجہ سے میرا دین متاثر ہو رہا ہے وہاں تمام دنیاوی خواہشات اور عمل پر ایک بچے احمدی کو بند باندھ دینا چاہئے۔اگر ہر احمدی اس کی پہچان کرلے، اگر اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو یقیناً خدا تعالیٰ کے پیار کی نظر حاصل کرنے والے ہوں گے۔اس زمانہ کے ابراہیم کے ساتھ سچا تعلق قائم کرنے والے ہوں گے اور کچی پیروی اور اطاعت کرنے والے ہوں گے اور ضمناً میں یہ بھی بتا دوں کیونکہ جب سزا کے معاملات میرے سامنے آتے ہیں تو بہر حال اصولی بات ہے سزا دینی پڑتی ہے۔لیکن جب میں کسی کو سزا دیتا ہوں تو یہ بات میرے لئے بہت تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔پھر امن کا قیام بھی مسجدوں سے وابستہ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ جو مسجد میں اس نیت سے آئے گا کہ خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرے گا۔لیکن جو لوگ مسجدوں میں آ کر بھی بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ عملاً اپنے آپ کو سچی اطاعت سے باہر کر رہے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اپنی کتابوں میں اپنے ملفوظات میں اس قدر دوسروں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ کا سچا پیرو بھی اس سے صرف نظر کرے۔لیکن افسوس کہ بعض لوگ ، بعض احمدی اس خوبصورت تعلیم سے دُور ہٹتے چلے جا رہے ہیں اور پھر دعویٰ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔ایک دوسرے پر الزام تراشیاں، جھگڑے، خاص طور پر میاں بیوی کے جھگڑے ہوں تو پورے کا پورا خاندان اس میں ملوث ہو جاتا ہے۔پھر لڑ کیوں پر، عورتوں پر گندے الزام لگانے سے بھی باز نہیں آتے۔تو اُن کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے جائزے لیں، کچھ خدا کا خوف کریں۔مجھے بعض دفعہ شکایات آتی ہیں بعض عہدیدار بھی انصاف کے تقاضے پورے نہ کرتے ہوئے۔غلط قسم کے لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ان سے بھی میں یہی کہوں گا کہ انصاف کے تقاضے پورے کریں۔اس وحدانیت اور امن کے قیام کی کوشش کریں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔ورنہ عہد کا پاس نہ