خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد ششم 267 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 سے منحرف کر رہا ہوتا ہے۔جس کی ایک مثال میں پیش کرتا ہوں۔یہ کمزوری ہے جو بعض دفعہ شدت سے بڑھنے لگ گئی ہے اور جو میرے نزدیک بڑی واضح اعتقادی غلطی بھی ہے اور یہ مسئلہ ہے شادی بیاہ کا۔شادی کرنا ایک احسن عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے بیوگان کو ایک طرح کا حکم دیا ہے کہ وہ شادی کریں اور اس کے عزیز اس کے راستہ میں روک نہ بنیں۔آنحضرت ﷺ بھی اپنے صحابہ کو تحریک فرماتے ،شادی کی ترغیب دلاتے تھے، رشتے بھی تجویز فرماتے تھے۔لیکن یہی مستحسن عمل جو ہے بعض حالتوں میں بعض احمدی خاندانوں کے لئے ابتلاء بن جاتا ہے اور اس میں نظام جماعت کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔لیکن بعض لوگ نظام جماعت کو بھی الزام دیتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب ایک شخص اپنی مرضی سے کسی غیر از جماعت لڑکی یا عورت سے شادی کرتا ہے اور اس خوف سے کہ نظام جماعت یا بُرا منائے گا اور مجھے اجازت نہیں ملے گی یا بعض اوقات غیر از جماعت لڑکی والوں کی طرف سے بھی یہ شرط رکھ دی جاتی ہے کہ نکاح غیر از جماعت مولوی یا کوئی شخص پڑھائے تو ایسے لوگ غیر از جماعت سے نکاح پڑھوا لیتے ہیں اور ایک ایسی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں جو انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے باہر نکال دیتی ہے۔کیونکہ یہ نکاح پڑھانے والے وہ شخص ہوتے ہیں، یا ہوتا ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی ہوئی ہوتی ہے۔آپ کی تکفیر کرنے والے ہیں۔گویا عملاً ایسا احمدی لڑکا یا اس کا خاندان جو اس شادی میں اس کا مددگار ہوتا ہے یہ اعلان کرتا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے باہر نکل کر مولوی سے یہ نکاح پڑھوا کر نعوذ باللہ آپ کی تکفیر اور تکذیب کرتا ہوں۔ایسے شخص یا اشخاص اعتقادی لحاظ سے آپ کے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت سے انکاری ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مکفر اور مکذب مولوی کو آپ کے مقابل پر کھڑا کیا ہے۔اور جب اس بات پر اخراج از جماعت ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہوا ہے۔نکاح تو ہم نے مسنون طریقہ سے پڑھایا تھا۔اگر کسی کے باپ کو کوئی برا بھلا کہنے والا ہو تو اس پر تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے غیرت کا سوال آتا ہے تو ایسے لوگوں کی غیر تیں مصلحت اور نفسانی خواہشات کا شکار ہو جاتی ہیں۔اگر ایسی کوئی اضطراری کیفیت ہے تو ایسے لوگ اجازت لے کر احمدی سے نکاح پڑھوا لیں تو اپنے ایمان کو بھی بچانے والے ہوں گے اور ابتلاء سے بھی بچ جائیں گے۔دوسرے ایسے لوگوں کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ آنحضرت کے بتائے ہوئے خوبصورت اصول کے مطابق اپنی خواہشات اور نفسانیت کا شکار ہونے کی بجائے دینی پہلو کو دیکھا کریں اور احمدی خاندانوں میں رشتہ کریں۔نیک اور دیندار لڑکی کی تلاش کریں تو نہ صرف ابتلاء سے بچ جائیں بلکہ اپنے خاندانوں کو بھی ابتلاء سے بچانے والے ہوں بلکہ ثواب کمانے والے ہوں گے۔اسی طرح بعض بچیاں جن کو ان کے ماں باپ نے آزادی دی ہوئی ہے یا کسی بھی وجہ سے غیروں سے شادی کر