خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 266

خطبات مسرور جلد ششم 266 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 نمونے قائم کریں جو خدا تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والے ہوں۔اطاعت نظام کے حق ادا کریں جو کبھی ہمیں ان انعاموں سے محروم نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے مقدر کئے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بناؤ یعنی ابراہیم کی طرز پر، اس زمانے کے ابراہیم کی طرز پر اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ اور جب ایسا کرو گے تو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اس مسیح محمدی کی جماعت میں شامل قرار دیئے جاؤ گے جو اسلام کے فرقوں میں سے نجات یافتہ فرقہ ہے۔جس پر اللہ تعالیٰ نے خلافت کا بھی انعام فرمایا ہوا ہے۔جو ایک جماعت کی شکل میں ہے۔جس کے افراد ایک ہاتھ پر اٹھنا بیٹھنا جانتے ہیں۔جو قربانیاں کرنے کے لئے بے چین ہوتے ہیں۔جو خانہ کعبہ کی طرز پر اپنی مسجدیں بناتے ہیں۔جو اپنی اولا دوں کو حضرت ابراہیم کی طرح دین کی خاطر قربان کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں۔پس ہم نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہیں حسب توفیق مساجد بھی بناتے چلے جانا ہے تا کہ اسلام کی طرف دنیا کی توجہ بھی رہے اور اپنی اولا دوں کو بھی دین کی خاطر قربان کرتے چلے جانا ہے تا کہ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جود نیا میں خدائے واحد کی پہچان کروانے والے ہوں۔اس کا پیغام دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔یہاں ایک بات کی طرف میں خاص طور پر توجہ دلانی چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام نے فرمایا کہ اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالا و یعنی اب اس زمانے میں نجات اسی میں ہے کہ اپنی عبادتوں کو اس شوق اور توجہ اور اس طریق پر ادا کرو جو اس زمانے کے حکم و عدل نے ہمیں بتائے ہیں یا ہم سے خواہش کی ہے۔جو زمانے کے امام نے ہمیں بتائے ہیں۔اپنے عقیدے پر اس طرح قائم ہو جس طرح اس زمانے کے امام ہمیں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ان اصولوں پر چلو جو اس زمانے کے حکم اور عدل نے ہمیں بتائے ہیں۔ذاتی خواہشوں اور مصلحتوں کی وجہ سے اپنے عقیدے کے سودے نہ کرو۔عقیدہ کیا ہے؟ یہ دلی یقین کی وہ کیفیت ہے جس کے مقابلے پر ہر دوسری چیز بیچ ہے اور ہونی چاہئے۔کسی بھی چیز کی اس کے مقابلے پر کوئی اہمیت نہیں۔ہر احمدی یہ عقیدہ رکھتا ہے اور اس پر کامل یقین اور ایمان کے ساتھ قائم ہے کہ آنحضرت مے کی پیشگوئیوں کے مطابق جس مسیح و مہدی نے آنا تھا وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، ان کی صورت میں ظاہر ہوا۔اور آپ کی بیعت میں آ کر اب ہمارے لئے آپ کا ہر حکم بجالا نا ضروری ہے۔لیکن بعض دفعہ لوگ اپنی ذاتی پسند کی وجہ سے ایسے فعل کے دنیاوی الصلوة مرتکب ہو جاتے ہیں جو ان کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان اور اعتقاد کو ڈانواں ڈول کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جو اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے وہ ظالم ہے۔وہ اس حرکت کی شدت کو نہیں سمجھتے جو وہ بعض دفعہ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر کر رہے ہوتے ہیں جو انہیں بیعت کے دعوئی