خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 255

255 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 27 جون 2008 وزمین کی پیدائش پر غور کرتے رہتے ہیں۔یہ عقل جو انسان کو خدا تعالیٰ نے دی ہے اور اسے جو اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز بخشا ہے، یہ ایک عابد بندے کو جب وہ اس کی پیدائش پر غور کرتا ہے خدا تعالیٰ کے مزید قریب کرتا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ آج کل بعض پڑھے لکھے اس تخلیق کو دیکھ کر اپنی عقلوں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں اور راہ راست سے ہٹ جاتے ہیں لیکن عبادت گزار، خدا پر یقین رکھنے والے، اس کی عبادت کرنے والے اپنی ان مخفی صلاحیتوں کو جو خدا تعالیٰ نے انہیں ودیعت کی ہیں اللہ تعالیٰ کی پہچان اور اس کی وحدانیت کے مزید عرفان سے فیضیاب ہونے کا ذریعہ بناتے ہیں۔مکرم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرتے ہوئے اپنی تھیوری کو ثابت کیا اور قرآن کریم کی ایک آیت سے رہنمائی حاصل کی۔پس یہاں پلنے بڑھنے والے نوجوان اس بات کو ہمیشہ یادرکھیں کہ جتنا آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دیں گے، اس سے مدد مانگتے ہوئے اپنی مخفی صلاحیتوں کو چمکائیں گے اتنا ہی آپ ان دوسرے لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی مخلوق اور دنیاوی علوم کا زیادہ فہم اور ادراک حاصل کرنے والے ہوں گے جو خدا تعالیٰ کی پہچان نہ کرنے والے رکھتے ہیں اور ان لوگوں سے زیادہ آپ کو عرفان حاصل ہوگا جو اس کی عبادت نہ کرنے والے کسی چیز کا عرفان رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے کائنات کے مضامین پر جو قرآن کریم میں روشنی ڈالی ہے، اسے ایک پاک دل اور عبادت کرنے والے احمدی سے زیادہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مخفی در مخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک عابد بندے کی اپنی مخلوق کی پیدائش کی طرف رہنمائی کرتا ہے، زمین و آسمان اور کائنات میں جو کچھ پیدا کیا ہے اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔اس کی مکمل گہرائی تک ایک غیر عابد نہیں پہنچ سکتا۔ایک غیر مسلم کو اس کی تحقیق خدا کا علم دلانے کی بجائے تکبر میں مبتلا کرتی ہے لیکن ایک عابد اللہ تعالی کی تخلیق دیکھ کر مزید اس کی طرف جھکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہر چیز ایک مومن کو ایمان میں بڑھاتے ہوئے اس کی طرف جھکنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بناتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آیت کی وضاحت میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اور غور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الہی ان پر کھلتے ہیں تو کہتے ہیں خدایا تو نے ان صنعتوں کو بے کار پیدا نہیں کیا۔یعنی وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے کہ مثلاً اسی پر کفایت کریں کہ زمین کی شکل یہ ہے اور اس کا قطر اس قدر ہے اور اُس کی کشش کی کیفیت یہ ہے اور آفتاب اور ماہتاب اور ستاروں سے اس کو اس