خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 256
خطبات مسرور جلد ششم 256 خطبه جمعه فرمودہ 27 جون 2008 قسم کے تعلقات ہیں۔بلکہ وہ صنعت کی کمائیت شناخت کرنے کے بعد اور اس کے خواص کھلنے کے پیچھے صانع کی طرف رجوع کر جاتے ہیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 143-144) اور ایمان کو مضبوط کرنے والے لوگوں کی نشانی یہ ہے۔اس بارے میں خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِايْتِنَا الَّذِيْنَ إِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَسَبِّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لا يَسْتَكْبِرُوْنَ (السجدة: 16) ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان کے متعلق یاد دلایا جاتا ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف اور تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔پس یہ ہے مومن کی نشانی اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا جب اسے عرفان حاصل ہوتا ہے تو وہ خدا کے حضور جھکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی آیات میں قرآنی تعلیم بھی ہے انبیاء کے ذریعہ سے ظاہر ہونے والے نشانات بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہر چیز بھی۔پس جتنا ایک مومن قرآن کریم کی تعلیم پر غور کرتا ہے اپنے ماحول پر غور کرتا ہے خدا تعالیٰ کی ہر قسم کی پیدائش پر غور کرتا ہے، کائنات پر غور کرتا ہے اس کے لئے کوئی راہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر اپنے پیدا کرنے والے خدا کا عبادت گزار بنے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فقرہ ہم احمدیوں کو خاص طور پر جگانے والا ہونا چاہئے کہ جولوگ اپنی اصل اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دور جا پڑتے ہیں۔پس یہ ایک احمدی کے لئے بڑے فکر کا مقام ہے۔ایک طرف تو ہم فضل کو سمیٹنے کے لئے اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو اس زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہونے کا دعوی کرنے والے سمجھیں یا کہیں اور اس وجہ سے دنیا کی مخالفت بھی مول لے رہے ہیں۔بعض احمدی اپنے غیر از جماعت قریبی رشتہ داروں کی سختیوں کا بھی سامنا کر رہے ہوتے ہیں لیکن اگر ہم عبادت کی طرف اس کا حق ادا کرتے ہوئے توجہ نہیں دے رہے تو نہ صرف دنیاوی رشتوں اور ماحول کی مخالفت کا ہم سامنا کر رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھی دور جارہے ہیں۔پس ہم میں سے وہ جو نمازوں میں اپنی حالتوں کے خود جائزے لیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس درد کو محسوس کریں جو آپ کو ہمارے لئے ہے بلکہ یہ درد تمام انسانیت کے لئے ہے۔لیکن جب آپ فرماتے ہیں کہ انسان کے دل میں خدا کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے تو ہم احمدی سب سے پہلے آپ کے مخاطب ہوں گے۔ہمیں خدا تعالیٰ کا قرب تلاش کرنے کے لئے اس کے حضور جھکنے کی ضرورت ہے۔اس کی عبادت کی ضرورت ہے اور عبادت میں سب سے بہترین عبادت نمازوں کی ادائیگی ہے۔اور نمازوں کی ادائیگی کس طرح ہونی چاہئے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل