خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 254

خطبات مسرور جلد ششم 254 خطبه جمعه فرمودہ 27 جون 2008 بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اور اس کے ارادہ سے باہر نکل کر اپنی اغراض اور جذبات کو مقدم نہ کرنا۔پھر آپ فرماتے ہیں : ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورة الذریات آیت 57 - جلد چہارم صفحہ 236-237) جواس ” خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔اصل غرض کو مدنظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں ، فلاں مکان بنا لوں ،فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلالے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ قابل قدر شے ہو جائے گا۔اگر یہ در داس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخری تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جائے گا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الذاریات زیر آیت نمبر 57 جلد چہارم صفحہ 239) تو یہ ہے ہمارا مقصد پیدائش جسے کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا کہ انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت رکھ دی ہے اور اس فطرت کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب ایک ایسا انسان بھی جود نیا میں ڈوب کر خدا تعالیٰ کو بھول بیٹھا ہو جب کسی مصیبت میں گرفتار ہو، کشتی طوفان میں گھر جائے تو بے اختیار اس کی نظر آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔لیکن کیونکہ دنیا داری غالب ہوتی ہے۔اس مشکل سے رہائی کے بعد ایسے لوگ خدا کو پھر بھول جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو بھی قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔لیکن جو عبادالرحمن ہیں وہ مشکل سے رہائی پانے کے بعد پہلے سے زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے قرب کے پانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کائنات کی ہر چیز جو انسان کے علم میں ہے یا علم میں آتی ہے اسے خدا تعالیٰ کی پہچان کروانے والی اور اس کی عبادت میں بڑھانے والی ہوتی ہے۔خدا تعالی کی تخلیق پر جب ایک اللہ تعالیٰ کا عابد بندہ غور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مزید اپنی زبان کو تر کرتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُوْلِي الْأَلْبَابِ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُوْدًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِى خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ۔( آل عمران:191) آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقلمندوں کے لئے کئی نشان موجود ہیں۔وہ نظمند جو وہ کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی، لیٹے ہوئے بھی اللہ کی یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمان