خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 253
253 خطبه جمعه فرمودہ 27 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم کے عبادت گزار بندے بننے والے ہوں اور آپ کی دعاؤں سے ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی حصہ پاتی چلی جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کیا حکم فرماتا ہے۔اس کا مختلف جگہوں پر مختلف حوالوں سے ذکر ہے۔سب سے اہم بات تو اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ واضح فرما دی کہ ایک انسان کو جسے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اسے وہ دماغ دیا ہے جو دوسری کسی مخلوق کو نہیں دیا۔اسے اپنے قومی کو استعمال میں لانے کے لئے وہ صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دی گئیں۔اسے مرنے کے بعد ایک نئی نہ ختم ہونے والی زندگی کی بشارت دی گئی ہے جس میں اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا عمل ہو گا جو کسی دوسری مخلوق کے ساتھ نہیں۔پس جو اس اہم نکتے کو سمجھیں گے وہ کامیاب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کچھ راستے متعین کئے ہیں کہ اگران راستوں پر چلو گے تو اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے حامل بنو گے اور اگلے جہان میں بھی۔اور وہ راستے کون سے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہو۔وہ ہیں اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بندہ بنا اور نیک اعمال بجالا نا بلکہ فرمایا کہ سب سے بنیادی چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور اسی مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) اس کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات:57) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔مگر جولوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری ان کے لئے نہیں رہتی۔وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) پر ایمان لاکر زندگی کا پہلو بدل لے۔موت کا اعتبار نہیں ہے۔تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔اسلام تو انسان کو چست ، ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے۔اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اس کا تر در نہ کرے، تو اس سے مواخذہ ہوگا۔پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جاوے وہ غلطی کرتا ہے۔نہیں،اصل