خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 250
خطبات مسرور جلد ششم 250 (26) خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جون 2008 فرمودہ مورخہ 27 جون 2008ء بمطابق 27 /احسان 1387 ہجری شمسی بمقام انٹر نیشنل کانفرنس سینٹر مسی سا گا۔انٹاریو ( کینیڈا) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میرے اس خطبے کے ساتھ جماعت احمدیہ کینیڈا کا جلسہ سالانہ شروع ہورہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل۔جماعت احمد یہ ایک لمبے عرصے سے جلسوں کے انعقاد کی وجہ سے جو دنیا کے ہر اس ملک میں ہوتے ہیں جہاں جماعت قائم ہے ان جلسوں کے مقصد اور روایات سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے۔بلکہ ایم ٹی اے نے تو ہر احمدی کو جو ایم ٹی اے دیکھتا ہے دنیا میں منعقد ہونے والے جلسوں کے نظارے دکھا کر ایک ایسی وحدت میں پرو دیا ہے جس نے مختلف قوموں کے احمدیوں کے مزاج اور روایات بھی ایک کر دیئے ہیں۔ایک نیکی اور پاکیزگی کے اثرات ان کے چہروں پر عیاں ہوتے ہیں اور یہ بات ہم دنیا کو پینچ کر کے بتاتے ہیں کہ یہ ایک مزاج ہے جو جماعت کا ہے۔پرسوں یہاں خلافت جوبلی کے حوالے سے جو ریسیپشن (Reception) ہوئی، جو بینکوٹ (Banquet) ہوا تھا وہاں اونٹاریو کے پریمئر (Premier) بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ان سے باتیں کرتے ہوئے میں نے انہیں یہی بتایا کہ جماعت احمدیہ کا مزاج دنیا کے ہر خطے اور ہر قوم میں آپ کو ایک جیسا نظر آئے گا اور وہ ہے نیکیوں میں آگے بڑھنے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش۔اور جب تک کسی بھی احمدی میں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کوشش جاری رہے گی وہ جماعت کا ایک فعال رکن بنارہے گا اور اس نعمت سے فائدہ اٹھائے گا جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں عطا فرمائی ہے۔اس کے چہرے پر وہ آثار نظر آئیں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانے والے لوگوں میں نظر آتے ہیں اور نظر آنے چاہئیں۔یہ عبادت گزار لوگ ہیں۔دنیا کے کسی خطے میں چلے جائیں احمدیت کی خاطر بڑھ کر قربانی کرنے والے ہیں اور اپنی عبادتوں کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَراهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيْمَا هُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ (الفتح : 30) تو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔وہ اللہ ہی سے فضل اور رضا چاہتے ہیں۔سجدوں کے اثر سے ان